شیخوپورہ: 12 سالہ گھریلو ملازمہ زینب کی ’تشدد‘ سے موت

صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں ایک 12 سالہ یتیم گھریلو ملازمہ زینب کی موت کے معاملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ طبی معائنے میں تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے الزام میں گھر کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ گھر کی مالکن اور ان کا بیٹا تاحال مفرور ہیں۔

پولیس کے مطابق زینب شیخوپورہ کے تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں واقع ایک گھر میں چار ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتی تھیں۔ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث گھر کی مالکن فرخندہ لیڈی ہیلتھ ورکر ہیں جبکہ ان کے شوہر محکمہ صحت کے سابق ملازم ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقدمے کے تفتیشی افسر جمیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع ملنے پر اہلکار موقعے پر پہنچے اور بچی کی لاش کا طبی معائنہ کروایا گیا، جس میں تشدد کے باعث موت کی تصدیق ہوئی۔ ان کے مطابق بچی کے سر اور جسم پر بھی ڈنڈوں سے تشدد کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق زینب کے والد عمر حیات کی تقریباً آٹھ ماہ قبل پولیس مقابلے میں موت ہو گئی تھی۔ بچی کے 10 بہن بھائی ہیں، جن میں سے بعض بھٹوں اور گھروں میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق مقدمہ زینب کے ماموں محمد حنیف کی مدعیت میں درج کر کے گھر کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فرخندہ اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اہل خانہ کا مؤقف

زینب کے ماموں محمد حنیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گھر کی مالکن فرخندہ نے بچی کی والدہ ثوبیہ بی بی کو فون کرکے اطلاع دی کہ زینب بے ہوش ہو گئی ہے، اسے آ کر لے جائیں۔

ان کے مطابق جب اہل خانہ گھر پہنچے تو زینب دوسری منزل پر خون میں لت پت پڑی تھی اور دم توڑ چکی تھی۔ حنیف کا دعویٰ ہے کہ پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دینے سے قبل گھر کی مالکن اور ان کا بیٹا وہاں سے چلے گئے تھے۔

محمد حنیف نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یتیم بچے محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں۔

بچوں سے گھریلو مشقت اور قانون پر عمل درآمد

زینب کی موت کا واقعہ پاکستان میں کم عمر بچوں سے گھریلو مشقت اور ان کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کے سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خلاف قوانین موجود ہیں اور 2013 سے 2016 کے دوران چاروں صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قوانین کو بہتر بنایا، تاہم ان کے بقول، بچوں کو دوسرے لوگوں کے گھروں میں کام پر بھیجنے سے متعلق گھریلو مشقت کے مسئلے کو قوانین میں خاطر خواہ طور پر نہیں سمیٹا گیا۔

طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ کم عمر گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے میں والدین کی غفلت کے ساتھ ریاست کی ذمہ داریوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غربت بچوں سے مشقت کروانے کا جواز نہیں بن سکتی، کیونکہ بچوں کو تعلیم، تحفظ اور بہتر مستقبل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے ساتھ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں بچوں سے مشقت، جبری مزدوری اور جسمانی تشدد کے خلاف مختلف قوانین نافذ ہیں، جبکہ پنجاب میں چائلڈ لیبر اور گھریلو ملازمین کے حقوق سے متعلق قانونی ضوابط بھی موجود ہیں۔

متعلقہ قوانین کے تحت کم عمر بچوں سے ممنوعہ نوعیت کا کام لینا اور انہیں جبری مشقت پر مجبور کرنا قابلِ سزا جرائم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے یا موت واقع ہونے کی صورت میں حالات اور دستیاب شواہد کے مطابق فوجداری دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

تاہم، بچوں سے گھریلو مشقت کے خاتمے کے لیے قانون پر عمل درآمد، متاثرہ بچوں کی شناخت، نگرانی اور شکایات پر فوری کارروائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *