اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غصے میں بھڑک اٹھنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ذہنی حالت کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
منگل کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ٹرمپ بار بار وائٹ ہاؤس میں دی انڈپینڈنٹ کے رپورٹر اینڈریو فائن برگ پر برستے رہے۔ انہوں نے فائن برگ کو چپ رہنے کا حکم دیا، ’خبردار رہنے‘ کی تنبیہ کی اور انہیں ’بیمار شخص‘ قرار دیا۔
ریزولیوٹ ڈیسک کے پیچھے بیٹھے ٹرمپ نے کہا: ’رکیں، رکیں، رکیں، رکیں۔ خاموش، خاموش۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ کیا آپ بیمار ہیں؟ مجھے تو واقعی لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے۔‘
اس تکرار اور فائن برگ کے ساتھ ٹرمپ کی دیگر جھڑپوں کی ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ انہیں لاکھوں بار دیکھا گیا اور ہزاروں لوگوں نے تبصرے کیے۔ ٹرمپ پہلے بھی صحافیوں پر برستے رہے ہیں اور انہیں ’غدار‘، ’بے وقوف‘ اور ’بدتمیز‘ کہہ چکے ہیں، لیکن منگل کو ان کے غصے کی شدت دیکھ کر بہت سے صارفین حیران رہ گئے۔
ترقی پسند سیاسی حکمت عملی ساز کرس سوسا نے ایکس پر لکھا: ’واقعی خوف زدہ کر دینے والا منظر ہے۔‘ ریاست الینوئے سے ری پبلکن پارٹی کے سابق رکن کانگریس ایڈم کنزنگر نے لکھا: ’ٹرمپ بیمار آدمی ہیں۔ واقعی کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔‘
کئی تبصرہ کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ 80 سالہ صدر کی ذہنی صلاحیتیں کمزور پڑنے کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس ایسے دعوے بار بار مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امریکی تاریخ کے ’سب سے تیز ذہن‘ صدر ہیں۔
ریڈیو میزبان اور سیاسی مبصر مارک بلینڈ نے فائن برگ پر ٹرمپ کے برسنے کی ویڈیو پر لکھا: ’اگر بائیڈن انتخابی مہم چلانے کے قابل نہیں تھے تو ٹرمپ کی گرتی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں بھی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔‘
بعض صارفین نے خاص طور پر ڈیمنشیا، یعنی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر کرنے والی بیماری کا خدشہ ظاہر کیا۔
ایکس پر ایک صارف نے لکھا: ’اس طرح کا جارحانہ رویہ ڈیمنشیا کی بالکل واضح علامات میں سے ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہم اس پر زیادہ بات کیوں نہیں کر رہے۔‘
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی کے تقریباً آٹھ سال ڈیمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کی ہے۔ اس شخص نے جس انداز میں ’خاموش‘ کہا اور اس وقت اس کے چہرے پر جو تاثرات تھے، انہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ انہیں ڈیمنشیا ہے۔‘
تیسرے صارف نے دعویٰ کیا: ’ان میں لوئی باڈی ڈیمنشیا کی علامات نظر آ رہی ہیں۔ ان کا رویہ پل بھر میں بدل جاتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے حق میں بولنے والے بھی کم نہیں تھے۔ ان میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد میں فائن برگ کو ’احمق‘ کہا۔
منگل کو فائن برگ نے ٹرمپ سے پہلا سوال دھوکا دہی کے خلاف ان کی مہم کے بارے میں کیا۔ خاص طور پر انہوں نے اس نئے وعدے کا ذکر کیا جس کے تحت دھوکا دہی کا پردہ چاک کرنے والوں کو بے نقاب کی گئی رقم کا ایک فیصد دیا جائے گا۔ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، دونوں نے جواب دیا، جس کے بعد صدر نے فائن برگ سے پوچھا: ’آپ کون ہیں؟‘
بعد میں فائن برگ کو لگا کہ ٹرمپ نے انہیں سوال کرنے کا اشارہ کیا ہے، لیکن جب انہوں نے مزید سوالات پوچھنے کی کوشش کی تو صدر ان پر برس پڑے۔
ایک موقعے پر ٹرمپ نے کہا: ’مجھے نہیں معلوم آپ آخر ہیں کون، لیکن خبردار رہنا۔‘ چند منٹ بعد فائن برگ نے صدر کے گالف کورس کی تزئین و آرائش کے منصوبے کا ذکر کیا تو ٹرمپ نے سخت لہجے میں انہیں خاموش رہنے کو کہا اور ’بیمار شخص‘ قرار دیا۔
ٹرمپ امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ عمر میں صدارت کا حلف اٹھانے والے شخص ہیں۔ دن کے وقت بظاہر اونگھنے، ہاتھوں پر نیل پڑنے اور ٹخنوں میں سوجن کے واقعات سامنے آنے کے بعد ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بارے میں عوامی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔
کئی طبی ماہرین بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سی این این کے طبی تجزیہ کار ڈاکٹر جوناتھن رائنر نے مئی میں کہا تھا: ’صدر کو دن کے وقت شدید غنودگی رہتی ہے اور مسلسل بے خوابی ایک سنگین بیماری ہے۔ اس سے ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور عمر رسیدہ افراد کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔‘
گذشتہ ماہ ہارورڈ اور ییل میں پڑھانے والی ماہرِ نفسیاتی طب ڈاکٹر بینڈی لی، جو قانونی اور سماجی معاملات سے متعلق نفسیاتی طب میں مہارت رکھتی ہیں، نے ٹرمپ کو ’ذہنی طور پر انتہائی غیر مستحکم شخص‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذہنی عدم استحکام کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ٹرمپ کسی بھی طرح بیمار ہیں یا صدارتی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اِنگل نے اس سے پہلے دی انڈیپنڈنٹ سے گفتگو میں طنز کیا تھا: ’اگر کوئی بطخ کی طرح قیں قیں کر رہا ہے تو ہو سکتا ہے وہ دراصل ڈیموکریٹس کا کوئی کاسہ لیس ڈاکٹر ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے سب سے تیز ذہن، سب سے زیادہ رسائی دینے والے اور سب سے پُرجوش صدر ہیں۔ جو نام نہاد طبی ماہرین معائنہ کیے بغیر تشخیص کر رہے ہیں یا سیاسی مقاصد کے لیے بے بنیاد قیاس آرائیاں پھیلا رہے ہیں، وہ صاف طور پر اپنے اٹھائے ہوئے بقراطی حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھوں پر بار بار نیل پڑنے کی وجہ کثرت سے مصافحہ کرنا ہے جبکہ ٹخنوں کی سوجن رگوں کی ایک دائمی خرابی کے باعث ہے جس میں خون واپس دل تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتا۔ صدر کے عوامی تقریبات میں سو جانے کے دعوؤں کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے فوری ردعمل کے اکاؤنٹ نے نیوز اینکرز کی بند آنکھوں والی تصاویر شیئر کیں، گویا وہ بھی اونگھ رہے ہوں۔
ٹرمپ خود بھی اصرار کرتے ہیں کہ ان کی صحت بہترین ہے۔ مئی میں طبی معائنے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ’تمام نتائج بالکل درست آئے ہیں۔‘
تاہم رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں امریکیوں کو تشویش ہے۔ اپریل میں یوگوو کے ایک سروے میں 48 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ٹرمپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کسی حد تک یا نمایاں کمی آئی ہے۔
دی انڈپینڈنٹ نے مؤقف جاننے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔
