افغان طالبان حکومت نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ طور پر شہری علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانی حکومت یا فوج کی جانب سے افغان حکومت کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صوبہ کنڑ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو مرد جان سے گئے جبکہ دو خواتین اور دو مرد زخمی ہوئے۔
افغان حکام کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔
Crime and Aggression:
Last night, once again, the invading Pakistani forces carried out airstrikes on civilian areas in Kunar and Paktika provinces of Afghanistan.1/4— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) September 21, 2026
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق صوبہ پکتیکا میں بھی ایک گھر اور ایک مقامی دکان کو مبینہ طور پر فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
طالبان ترجمان نے خبردار کیا کہ ان حملوں کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کشیدہ رہے ہیں، جبکہ رواں سال فروری میں دونوں ملکوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی، کے جنگجو پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور کابل ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہا۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
پاکستان کی طرف سے ایسے حملوں کو آغاز رواں سال 26 فروری کو ایسے وقت شروع ہوا جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں کیں۔
پاکستان ماضی میں بھی افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، جبکہ افغان حکام متعدد مرتبہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کی وجہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر ہونے والے متعدد حملے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو کوہاٹ پولیس لائن میں مسجد پر حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 31 افراد جان سے گئے تھے۔
گذشتہ ہفتے عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اگر افغان طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے تو دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کابل پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور نہیں کرتا تو اسلام آباد اپنے دفاع میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
