شہباز شریف کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کو اقتصادی اور زرعی شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے یہ بات سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون، بالخصوص پاکستان سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مثبت تعاون قابل اطمینان ہے اور زراعت کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور پانی کے وسائل کے مؤثر استعمال میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان کے زرعی ماہرین کا ایک وفد جلد ریاض کا دورہ کرے گا، جہاں زرعی تعاون سمیت دیگر متعلقہ امور پر مزید بات چیت کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

بیان کے مطابق سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور زراعت، پانی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کا پیغام

شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں ممالک مزید قریب آئے ہیں، جبکہ اس معاہدے نے پورے خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات محض سفارتی اور دفاعی سطح تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

پاکستان سعودی عرب کو نہ صرف ایک اہم برادر ملک بلکہ ایک اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت دار بھی سمجھتا ہے۔ حالیہ دفاعی تعاون کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر توجہ اس شراکت داری کو ایک جامع اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *