شرجیل میمن ہسپتال میں شراب برآمدگی کے مقدمے سے بری

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت چھ ملزمان کو ضیا الدین ہسپتال میں مبینہ شراب برآمدگی کے مقدمے سے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے 13 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ کیمیائی تجزیے کے مطابق برآمد کی گئی دونوں بوتلوں میں سے ایک میں شہد اور دوسری میں زیتون کا تیل تھا، جبکہ ملزمان کے خون کے نمونوں میں ایتھائل الکوحل بھی نہیں پائی گئی۔

سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت نے شرجیل انعام میمن، نسیم احمد شجرا، حبیب اللہ، شکر دین، مشتاق علی اور محمد جام کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 245(1) کے تحت شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

مقدمہ کیسے شروع ہوا؟

یہ مقدمہ یکم ستمبر 2018 کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ضیا الدین ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق تھا، جہاں شرجیل انعام میمن زیر علاج تھے۔ اس وقت وہ نیب ریفرنس میں گرفتاری کے بعد عدالتی تحویل میں تھے اور ہسپتال میں ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

یکم ستمبر 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا۔ اسی روز شرجیل میمن کے کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں ملنے کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مقدمے کے مدعی مجاہد خان کراچی سینٹرل جیل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر تعینات تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں کمرے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ملی، جس پر انہوں نے جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نسیم احمد شجرا کے ہمراہ صبح تقریباً ساڑھے نو بجے کمرے کی تلاشی لی۔

مدعی کے مطابق ملزمان کے ملازمین شکر دین، مشتاق علی اور محمد جام نے شیشے کی دو بوتلیں پیش کیں۔

ان میں سے ایک بوتل پر ’گرے گوز ووڈکا‘ درج تھا، جبکہ دوسری میں شہد جیسا مائع دکھائی دیتا تھا۔

مدعی نے دونوں بوتلیں تحویل میں لے کر سیل کر دیں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی۔

کیمیائی تجزیے میں کیا سامنے آیا؟

عدالتی فیصلے کے مطابق کیمیکل ایگزامینر ڈاکٹر زاہد حسن انصاری نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بوتل نمبر ایک میں شہد اور بوتل نمبر دو میں زیتون کا تیل ہونے کی تصدیق کی گئی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان کے خون کے نمونوں میں ایتھائل الکوحل نہیں پائی گئی۔

میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اعجاز احمد کے مطابق طبی معائنے کے وقت ملزمان نشے کی حالت میں نہیں تھے، تاہم ان کے خون کے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے محفوظ کیے گئے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹس نے مقدمے کے بنیادی الزام کو مشکوک بنا دیا، کیونکہ جس مائع کو شراب قرار دیا گیا تھا، وہ تجزیے میں شہد اور زیتون کا تیل نکلا۔

وکیل صفائی کا مؤقف

ملزمان کے وکلا عروشہ میمن اور شاہد حسین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکیل صفائی کے مطابق کیمیائی تجزیے کی رپورٹس سے واضح تھا کہ بوتلوں میں شراب موجود نہیں تھی۔

انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ واقعہ ایسے ہسپتال میں پیش آیا جہاں لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے، لیکن استغاثہ نے کسی آزاد گواہ کو پیش نہیں کیا۔

وکیل صفائی نے مزید کہا کہ استغاثہ کے گواہوں نے ملزمان کے خلاف کوئی واضح اور مخصوص کردار بیان نہیں کیا اور نہ ہی الزامات ثابت کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد پیش کیے گئے۔ انہوں نے عدالت سے ملزمان کی بریت کی استدعا کی۔

استغاثہ کا مؤقف

سرکاری وکیل حسن محبوب بھٹی نے ملزمان کی بریت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے انہیں سزا دینے کی استدعا کی۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، انہیں موقع سے گرفتار کیا گیا اور مبینہ شراب برآمد ہوئی۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں نے مقدمے کے مؤقف کی تائید کی، جبکہ گواہیوں اور برآمدگی سے متعلق مواد بھی ملزمان کو جرم سے منسلک کرتا ہے۔

تاہم عدالت نے دستیاب شواہد اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے بریت کی کیا وجہ بتائی؟

فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ پر لازم تھا کہ وہ ملزمان کے خلاف الزامات شک سے بالاتر ثابت کرتا۔

عدالت نے اس اصول کا حوالہ بھی دیا کہ پولیس اہلکاروں کی گواہی پر مشتمل مقدمات میں شواہد کا زیادہ احتیاط سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت کے مطابق مقدمے میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا جبکہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹس نے شراب کی برآمدگی کے بنیادی دعوے کی تائید نہیں کی۔ ان حالات میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا۔

عدالت نے شراب کی مبینہ برآمدگی اور شواہد غائب کرنے کے الزامات کو ثابت شدہ تسلیم نہیں کیا اور تمام چھ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *