سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق اتوار کو نجران کے ایک رہائشی علاقے میں حوثیوں کا پروجیکٹائل گرنے سے چھ شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتوار کو پیش آئے واقعے میں تین گھروں اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یمن کے ایران نواز حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اکتوبر 2026 میں شدید ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جب حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے جن میں متعدد افراد جان سے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے آرامکو کی تنصیبات، ابہا ایئرپورٹ اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے بیشتر حملے روکے اور یمن میں حوثی پوزیشنز پر فضائی حملے کیے۔
یہ جھڑپیں ستمبر میں حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور سعودی جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں ہو رہی ہیں جس سے خطے میں تیل کی سپلائی اور شہری سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔
#الدفاع_المدني : سقوط مقذوف معادٍ في مدينة نجران نتج عنه إصابة (6) مواطنين وأضرار مادية في (3) منازل و(3) مركبات. https://t.co/SSxh3f2aRH
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 18, 2026
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محکمہ شہری دفاع کے ترجمان نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوست میں بتایا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اقدامات کیے گئے ہیں۔
محکمہ شہری دفاع نے اتوار کی دوپہر نجران میں ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ بھی جاری کیا تھا، تاہم بعد میں اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
