میری سادگی کا غبارہ اس دن اتنی زور سے پھٹا کہ اب تک کانوں میں سیٹیاں بج رہی ہیں۔
فٹ پاتھ پہ ایک دوست کے ساتھ سجی کھانے بیٹھا تھا اور عین اسی وقت سوچ رہاتھا کہ یار حسنین جمال، تو کیسا ملنگ آدمی ہے، کہیں اے سی والی جگہ پہ بیٹھتا، سارا دن کام کیا ہے، پسینہ خشک ہوتا، تُو اتنی عیاشی تو یار ڈیزرو کرتا ہے، ادھر کیوں آ گیا، اس بیچارے کو بھی خوار کرنے بٹھایا ہوا ہے ساتھ، کیا سوچتا ہو گا، اسے کوئی اچھی جگہ نہیں ملی کھانے کو؟
پھر سوچ آئی کہ اسی کو تو قناعت کہتے ہیں، یہی سادگی ہے بابا، تُو جا سکتا تھا کسی بھی ایمبیانس والی جگہ پر، اچھی اچھی تصویریں بناتا، ہلکی آواز میں لوگ بات کر رہے ہوتے، لائٹ سا میوزک ہوتا، کھانا کھا کے ٹشو سے ہاتھ پونچھتا، ایکسکیوز می کہہ کر بیرے کو مخاطب کرتا، دائیں بائیں دیکھ کر سوچتا کہ اللہ میاں، کیسی تو نے پیاری دنیا بنائی ہے، اُس کے بعد مطمئن ہو کے اٹھتا، ماحول کے حساب سے ٹپ دیتا ۔۔۔ لیکن دیکھ کیسا فقیر آدمی ہے تُو، کدھر بیٹھا ہوا ہے؟
یہ سوچتے ہوئے سجی سامنے آ گئی، دائیں بائیں کا سب کچھ بھلا کے ہم دونوں انتہائی خلوص نیت سے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک بچہ آیا، اس نے کچھ کہا، سمجھ نہیں آیا، دوبارہ پوچھا ۔۔۔ اس نے کہا یہ بوٹی دے دے۔ جدھر اس نے اشارہ کیا تھا ادھر سے گوشت نکال کر اسے دے دیا تھوڑا سا۔ اب وہ ٹہل رہا ہے اور اسے کھا رہا ہے، اسی میں سے اپنے دوست کو بھی دیا کھانے کو، پھر وہ دونوں آگے کہیں نکل گئے۔
تھوڑی دیر بعد اٹھا، سادگی والی ٹوپی وہیں فٹ پاتھ پر چھوڑی، دوست کو اس کے گھر ۔۔۔ اب میں بھرے پیٹ اور بجتے کانوں کے ساتھ بستر پہ آ چکا تھا۔
بوٹی مانگتے اس بچے نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ ساری سادگی، ساری قناعت، ساری درویشی پریویلجڈ لوگوں کا، امیروں کا حصہ ہے، اور یہ بہت عجیب قسم کی چیز ہے، اسے آپ غرور بھی کہہ سکتے ہیں، نشہ بھی ۔۔۔ کبھی کبھی یہ خود فریبی ہو سکتی ہے لیکن نارمل چیز یہ ہرگز نہیں ہوتی۔
آپ نے ساری زندگی بھوک دیکھی ہے تو آپ دنیا جہان کے کھانوں سے منہ کیسے موڑ سکتے ہیں؟ آپ کھائیں گے، ندیدوں کی طرح رج کے، اور وہ حق پہ ہو گا۔
بچپن میں آپ نے عید پر بھی نیا جوڑا نہیں سلوایا، ساری زندگی اچھے کپڑوں کو ترستے رہے، وسائل نہیں تھے، ٹھیک ہے، لیکن کیا یہ سادگی تھی، نہ، یہ غربت تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گھر چلانے کے پیسے اگر آپ کے پاس ہیں، اس کے بعد بھی سارے خرچے نکال کے تھوڑی بچت موجود ہے، اور آپ اپنے فارغ وقت میں ان پیسوں کو جلا کے ہوا میں نہیں اڑا رہے تو یہ کفایت شعاری ہو سکتی ہے لیکن اسے سادگی نہیں کہہ سکتے۔
اگر آپ فُل ٹائم امیر ہیں، اکاؤنٹ میں اربوں روپے موجود ہیں، کھانا آپ پھر بھی فٹ پاتھ پر کھاتے ہیں تو سادگی یہ بھی نہیں ہے، یہ کنجوسی ہے یا ایک عادت ہے، دونوں صورتوں میں کوئی برائی نہیں۔
سادگی پتہ ہے کیا ہوتی ہے؟ وہ آپ کے اندر ہوتی ہے، وہ آپ کی سوچ میں بھی نہیں آتی، آپ اس کا تاج پہن کر نہیں گھوم سکتے، اس کی تصویریں نہیں چھاپ سکتے، اسے ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور اسے دکھانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی!
اور ہاں، آپ کو اگر یہ خیال بھی آ گیا کہ میں سادہ ہوں تو سمجھ لیں کہ اے پئی جے سادگی!
جو کچھ آپ، میں یا کوئی دوسرا انسان سادگی کے نام پہ کرتا ہے وہ سٹیٹس سمبل ہے، قسم خدا کی اور کچھ نہیں ہے۔
زندگی کے سٹیج پہ ہم سب اپنے حصے کی اداکاریاں کر رہے ہیں، کوئی پرانی گھڑی پہن کر سادہ بن رہا ہے، کوئی ’برینڈز کا شوق نہیں‘ پہن کر گھومتا ہے، کوئی فٹ پاتھی سادگی دکھاتا ہے لیکن اپن سب جو کچھ بھی کرتے ہیں سادگی وہ ہرگز نہیں ہوتی۔
اور یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ سب وہ بچہ بول رہا ہے جس نے تب مجھ سے ایک بوٹی مانگی تھی جس وقت میں اپنی سادگی کا تمغہ گلے میں لٹکائے بیٹھا تھا۔
