ایران کے خلاف عسکری محاذ پر حتمی کامیابی سے دور امریکہ نے اب اسلامی جمہوریہ کی معاشی ناکہ بندی کا ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جسے یورپی یونین کی بھی حمایت حاصل ہے۔
ایران نے اسے ’معاشی دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ خطے سے تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی معاشی پابندیاں یا ناکہ بندیاں ماضی میں کارگرد ثابت ہوئی ہیں؟
امریکی حکومت کے مطابق اس کا مقصد ایران کے لیے ہر معاشی لائف لائن کو کاٹنا ہے۔ ان کے خیال میں ایران میں برآمدات پہلے ہی رک گئی ہے۔ افراط زر 90 فیصد ہے جب کہ معیشت بری طرح سکڑ رہی ہے۔
واشنگٹن کو یقین ہے کہ ان پابندیوں سے ایران کی کمر ٹوٹ جائے گی اور وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاہم تاریخ اس حوالے سے کچھ مختلف ہے۔
مثال کے طور پر یونانیوں نے ٹروجن کا محاصرہ یہ سوچ کہ کیا کہ وہاں کے حکمراں کچھ دنوں یا ہفتوں میں گھٹنے ٹیک دیں گے لیکن اس محاصرے میں ان کو 10 سال ضائع کرنے پڑے۔
بعض اوقات ایسی ناکہ بندیاں اور محاصرے تباہ کن ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پہ جب منگولوں نے یوکرین کے ایک علاقے کا محاصرہ کیا تو وہ جراثیم زدہ لاشوں کو قلعے کے اندر پھینک کر یوکرین کے لوگوں کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن منگولوں کی اس حرکت نے ایک بہت بڑے طاعون کو جنم دیا، جس میں بڑی تعداد میں منگول بھی مارے گئے اور دنیا کے کئی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کی موت ہوئی۔
سلطنت عثمانیہ نے بہت اعتماد کے ساتھ ویانا کا محاصرہ کیا لیکن انہیں پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ نپولین نے برطانیہ کی بحری اور بری ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی لیکن نتیجہ واٹر لو کی شکل میں سامنے آیا۔
بیسویں صدی میں 1917 کے انقلاب کے بعد پہلے سوویت یونین اور بعد روس پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں۔ کئی ممالک نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ امریکہ نے ایک طویل عرصے تک اس انقلابی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
کمیونزم کو ان اقتصادی پابندیوں کے ذریعے محدود کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ روس سے نکل کر وسطی ایشیا اور یوکرین سے نکل کر وسطی اور مشرقی یورپ جا پہنچا اور دنیا کے دوسرے خطوں کو بھی اپنے حلقہ اثر میں لے آیا۔
تمام پابندیوں کے باوجود سوویت یونین نے تیزی سے ترقی کی اور 1956 میں دنیا کا پہلا صنعتی ملک امریکہ جبکہ دوسرا سوویت یونین تھا۔
جب چین میں انیس سو اننچاس میں انقلاب آیا تو اس کے خلاف بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سخت معاشی پابندیاں لگائیں لیکن تمام تر اقتصادی ناکہ بندیوں کے باوجود آج چین دنیا کا دوسرا بڑی معاشی کھلاڑی اور تیسری بڑی عسکری قوت ہے۔
مختلف قسم کی اقتصادی پابندیاں شمالی کوریا، کیوبا، ویت نام، مشرقی اور وسطی یورپ کے کمیونسٹ ممالک پر بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لگائی لیکن ان سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔
عراق میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچوں کی اموات ان اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ہوئیں۔ تاہم ان پابندیوں سے صدام حسین نے اقتدار نہیں چھوڑا اور بالاخر امریکہ کو وہاں پر عسکری مداخلت کرنی پڑی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس تاریخی تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی ناکہ بندیاں اور سخت اقتصادی پابندیاں ایران کے خلاف کامیاب ہو جائیں گی؟ سرد جنگ کے دوران تو پھر بھی یورپ اور امریکہ میں کچھ اتحاد تھا لیکن ایران کے خلاف یہ وقتی اتحاد کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ ان پابندیوں سے ایران مزید روس اور چین کے قریب ہو جائے گا، جو اس کی بالواسطہ طور پر یا بلاواسطہ طور پر معاشی و مالی مدد کریں گے۔
مشرق وسطی میں حالیہ جنگ نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایران خود ڈوبے گا تو وہ خطے کے کئی دوسرے ممالک کو ساتھ لے کے ڈوب سکتا ہے۔ اس جنگ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، بحرین اور کویت پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر خطے میں عرب ممالک اور اسرائیل کی سلامتی بیک وقت خطرے میں آئی، تو امریکہ کی ترجیح ہمیشہ اسرائیل ہوگا۔
اس خطرے کو بھانپتے ہوئے عرب ممالک ممکنہ طور پر خاموشی سے یا پس پردہ ایران کی معاشی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں یہ خطرہ ہے کہ اگر ایران کی مذہبی قیادت کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی سکون سے رہنے نہیں دیں گے، جس کا اشارہ تہران پہلے ہی کر بھی چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور کچھ اور عرب ممالک کے حوالے سے پہلے ہی یہ خبر گردش میں ہے کہ انہوں نے ایران کو خوش کرنے کے لیے مالی طور پر اس کی مدد کی ہے تاکہ حملوں سے بچا جائے۔ ان اقتصادی پابندیوں سے امریکہ ممکنہ طور پہ اپنے کچھ قریبی اتحادیوں کو بھی ناراض کر سکتا ہے جیسا کہ اس نے حال ہی میں ایک ترک بینک کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور اس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کی مالی مدد کرنے میں ملوث ہے۔
عالمی معیشت میں سمگلنگ کا چینل ہمیشہ سے کھلا رہتا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران ان پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے اس چینل کا استعمال کرے۔
تاریخی طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جس حربے کا بے جا استعمال کیا جائے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے متبادل کے لیے خود راستہ ہموار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب عثمانی ترکوں نے اپنی سٹریٹیجک بندرگاہوں کو ایک لیوریج کے طور پر بے جا استعمال کیا، تو مغربی ممالک امریکہ دریافت کرنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے دوسری پالیسیاں بھی بنائیں۔
ان تمام پابندیوں کے باوجود بھی روس اور چین کو بڑے پیمانے پر ایران سے تجارت کرنی ہے۔ چین جو تاریخی طور پہ ایران کے 90 فیصد تیل کو خریدتا رہا ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھے۔
اگر امریکہ ان پابندیوں کے ہتھیار کو اسی طرح استعمال کرتا رہا تو چین اور روس، جو پہلے ہی ایک متبادل مالی نظام پر کام کر رہے ہیں، وہ اس کام کو مزید تیز کر دیں گے۔
انڈیا نے بھی ایک متبادل مالی نظام ترتیب دے دیا ہے جو امریکہ کے سوفٹ سسٹم کے بغیر کام کر سکتا ہے۔ اس نظام کو فرانس سمیت 28 کے قریب ممالک اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
روس اور چین کی طرح انڈیا بھی یہ چاہتا ہے کہ ایرانی تیل اور گیس سے فائدہ اٹھائے اور وسطی ایشیا کے ممالک تک رسائی حاصل کرے، جہاں چین، ایران اور روس کا اثر و رسوخ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپ اور امریکہ کے حکمراں اس بات کو سمجھیں کہ وہ معاشی پابندیوں کے ہتھیار کو بے جا استعمال کر کے خود اپنی قبر کھود رہے ہیں۔
اگر ایران، چین، روس، انڈیا، جنوبی افریقہ اور برازیل نے مل کر کوئی نیا مالیاتی نظام تشکیل دے دیا، تو یہ نہ صرف امریکہ بلکہ مغرب کے لیے بھی ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا، جو ان کے زوال کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بعض اوقات زوال کا سفر بڑا برق رفتار ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

