یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب بتایا کہ اس کی افواج نے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
اتحاد نے منگل کو نصف شب کے فوراً بعد بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو اتحاد نے کہا تھا کہ وہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے کیے گئے حملے کا جواب دے رہا ہے۔
حوثی گذشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ہفتے کو حوثیوں کے حملوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 13 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو ہونے والے حملوں میں چار افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ اتوار کو ایک اور شخص جان سے گیا۔
پیر کو بھی ریاض کے مضافات میں واقع وسیع و عریض ہوائی اڈے پر آپریشنز معطل رہے۔
پروازوں سے متعلق جاری کردہ نوٹم کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بند رہے گا۔
سعودی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ہفتے کے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں احرام پہنے عمرہ زائرین کو روانگی کے لاؤنجز میں انتظار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
فوٹیج کے مطابق، اچانک ایک زوردار چمک کے ساتھ دھماکہ ہوا، جس سے عمارت لرز اٹھی اور آگ کے شعلوں میں گھرا ملبہ نیچے آ گرا۔
