ریاستی اداروں کے ’خلاف بیانات‘، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے منگل کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مسلسل عدم حاضری پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج عباس شاہ نے ریاستی اداروں پر مبینہ طور پر گمراہ کن الزامات لگانے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے سے متعلق کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مسلسل عدم حاضری پر انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سہیل آفریدی کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر بھی وہ پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

سہیل آفریدی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ برس نو نومبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر اسلام آباد میں ریاستی اداروں کے خلاف بیانات اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں سرکار کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں درج ایف آئی آر کے مطابق سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف ’نفرت انگیز اور بے بنیاد بیانات‘ پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جن سے ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق سہیل آفریدی نے چھ نومبر کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پر مبنی الزامات لگائے، جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کیا گیا۔

درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ویڈیوز پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل پیجز پر بھی شیئر کی گئیں، جن میں مبینہ طور پر جھوٹے اور اشتعال انگیز بیانات شامل تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *