پنجاب حکومت نے ستھرا پنجاب منصوبے کے تحت صفائی ٹیکس (سینیٹیشن بل) کی وصولی کے نظام میں توسیع کے لیے محکمہ ایکسائز کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔
حکام کے مطابق صفائی ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ شہریوں نے اسے اضافی بل اور مالی بوجھ قرار دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے 2024 میں اقتدار سنبھالتے ہی صوبے میں صفائی کے لیے ستھرا پنجاب منصوبے کا آغاز کیا۔
اس ضمن میں ایک لاکھ 35 ہزار تک ملازمین کو گلیوں، محلوں، بازاروں، مارکیٹوں، ہسپتالوں اور شاہراہوں کی صفائی کے لیے ملازمتیں دی گئیں۔ جبکہ پہلے سے موجود ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو بھی اسی منصوبے کا حصہ بنا دیا گیا۔
حکومت نے اس منصوبے کو لینڈ مارک منصوبہ قرار دے کر خطیر رقم خرچ کی۔ صفائی کے لیے مطلوب سہولیات اور گاڑیاں بھی فوری فراہم کی گئیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے پر 270 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ اس سال کے لیے 170 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
تاہم مختلف شہروں میں ستھرا پنجاب کے ملازمین کئی بار تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کرتے بھی دکھائی دیے۔
حکام کے مطابق ستھرا پنجاب کے تحت صفائی ٹیکس کی وصولی رواں سال سے شروع کی گئی۔ لیکن اس کا دائرۂ کار صرف پرانے میونسپل ریکارڈ میں رجسٹرڈ گھروں تک محدود تھا۔
اب پنجاب کابینہ نے دیہی اور کمرشل علاقوں کے پاس رجسٹرڈ نہ ہونے والے گھروں سے بھی ٹیکس وصولی کے لیے ذمہ داری محکمہ ایکسائز کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف ایگزیکٹو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی شہریار عارف خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’دنیا بھر میں میونسپل سہولیات پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
’لہٰذا پنجاب اور لاہور میں بھی صفائی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ تاہم جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، انہیں بھی اس نیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’یہ ٹیکس کمرشل اور شہری علاقوں میں زیادہ، جبکہ دیہی علاقوں سے پہلی بار لیکن کم فیس کی صورت میں وصول کیا جائے گا۔ زیادہ اخراجات حکومتی بجٹ سے ہی برداشت کیے جائیں گے، لیکن صفائی ٹیکس سے نظام مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔‘
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پانچ مرلے کے گھر پر دیہی علاقوں میں فی گھر دو سو روپے اور شہری علاقوں میں تین سو روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح پانچ سے 10 مرلے تک کے شہری گھروں سے پانچ سو روپے جبکہ دیہی علاقوں میں تین سو روپے وصول کیے جائیں گے۔ 10 سے 20 مرلے کے شہری گھروں پر ایک ہزار روپے، مگر دیہی علاقوں میں چار سو روپے فی گھر ماہانہ وصول ہوں گے۔
شہروں میں 40 مرلے کے گھروں پر پانچ ہزار روپے اور 40 مرلے سے بڑے گھروں پر بھی پانچ ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
تاہم دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ فی گھر چار سو روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح کمرشل علاقوں میں چھوٹے دکانداروں پر ایک ہزار روپے جبکہ بڑی جگہوں پر پانچ ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
شہری محبوب عالم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے صفائی پر بھی ٹیکس لگا دیا، لگتا ہے اب لہروں اور ہواؤں پر بھی ٹیکس لگے گا۔
’ہماری کئی گلیوں میں صفائی نہیں ہوتی، لیکن صفائی ٹیکس کا بل آنا شروع ہو گیا ہے۔ ستھرا پنجاب منصوبے پر بجٹ سے بھی خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے اور ہم سے بھی وصولی شروع کر دی گئی ہے۔‘
شہری لطیف احمد نے کہا کہ ’ہم تو پہلے بھی ہر چیز پر ٹیکس دے رہے ہیں۔ کئی جگہ صفائی ہوتی ہے، کئی جگہ نہیں ہوتی، لیکن صفائی ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔
’پہلے ہی بہت اخراجات ہیں، بجلی، گیس اور پانی کے بل دے رہے ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس ہے، بجلی پر بھی ٹیکس لیا جا رہا ہے، اب یہ صفائی ٹیکس لاگو کر دیا گیا ہے، اسے ختم کرنا چاہیے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد شہروز نامی تاجر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پچھلی حکومتوں کی نسبت موجودہ دور میں کام ہو رہا ہے۔ جب کام ہوگا تو ٹیکس بھی دینا ہوگا۔
’پوری دنیا میں حکومتیں ٹیکسوں پر ہی چلتی ہیں۔ ستھرا پنجاب کے تحت صفائی ہو رہی ہے، کوڑا اٹھایا جا رہا ہے اور کافی حد تک صفائی نظر آتی ہے۔
’لہٰذا جب سہولت ملے گی تو اس پر سروس چارجز لینا حکومت کا حق ہے۔ اگر ہم ٹیکس نہیں دیں گے، جو کہ بہت سے تاجر نہیں دیتے، تو حکومت آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ہی چلے گی۔‘
تاجر طارق علی کے بقول: ’صارفین پر آئے روز حکومت نئے نئے ٹیکس لگا رہی ہے، جس سے بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے، کچھ معلوم نہیں۔
’یہ بوجھ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ جو ٹیکس دے رہے ہیں، انہیں اس کے نتائج نہیں مل رہے۔ بارشوں میں سڑکیں بیٹھ رہی ہیں، ہر طرف کوڑا بھی دکھائی دیتا ہے۔
’حکومت اسے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رہی ہے، لیکن عام آدمی کی آمدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب تک حقیقی طور پر صفائی کا نظام نہیں بنتا، اس وقت تک یہ ٹیکس وصول نہیں کرنا چاہیے۔‘
سی ای او شہریار کے بقول: ’پہلے صفائی کا نظام ہی موجود نہیں تھا۔ ہم اچھی سروس فراہم کر رہے ہیں۔
’دیہی علاقوں اور شہروں کے لوگ خوش ہیں کہ پانچ سو یا ہزار روپے میں پورا مہینہ صفائی ملتی ہے۔ ہمارے ورکرز ہر طرف صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس نظام کی بہتری کے لیے لوگوں سے بہت معمولی سی رقم وصول کی جا رہی ہے۔‘
