راولپنڈی کا مصروف ترین کچہری چوک، جہاں کبھی گاڑیوں کی طویل قطاریں اور شدید ٹریفک جام معمول ہوا کرتے تھے، اب ایک نئی شناخت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
فلائی اوورز، انڈر پاسز اور سگنل فری کوریڈور پر مشتمل اس منصوبے کو ’معرکۂ حق سکوائر‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہاں نصب بڑی ایل ای ڈی سکرینوں پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں ہونے والی جنگ سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر مسلسل چلتی رہتی ہیں۔
’معرکۂ حق‘ دراصل پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی اُس مختصر جنگ کی طرف اشارہ ہے جسے پاکستانی حکومت نے ’حق کی جنگ‘ قرار دیا تھا۔
کچہری چوک منصوبے کے تحت دو فلائی اوورز، تین انڈر پاسز، پیدل چلنے والوں کے لیے جدید پل اور اطراف کی سڑکوں کی ازسرِ نو تعمیر شامل ہے۔
ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں توسیعی کام اور بڑھتی تعمیراتی لاگت کے باعث اس کی مالیت میں اضافہ ہوا۔
راولپنڈی میں پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) مصعب علی کے مطابق یہ منصوبہ 18 ماہ میں مکمل ہونا تھا، لیکن دن رات کام کر کے اسے 179 دن میں مکمل کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’اس منصوبے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں موجود دو بڑے سگنلز ختم کر دیے گئے ہیں، جہاں پہلے شہر کی بڑی ٹریفک پھنسی رہتی تھی۔ اب صدر جی پی او، جی ٹی روڈ اور پشاور روڈ کی طرف جانے والی ٹریفک بغیر سگنل کے سفر کر سکتی ہے۔‘
مصعب علی کے مطابق: ’آئندہ مرحلے میں پشاور روڈ منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا، جس میں مزید انڈر پاسز شامل ہوں گے۔‘
کچہری روڈ پروجیکٹ کی تکیمل سے رہائشی بھی خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے سفر کا دورانیہ کم ہو گیا ہے۔
راولپنڈی کے رہائشی گلو بٹ کہتے ہیں کہ پہلے لاہور سے آنے والی ٹریفک، مال روڈ اور جی پی او چوک کی طرف جانے والی گاڑیوں کے باعث یہاں شدید رش رہتا تھا۔
بقول گلو بٹ: ’بعض اوقات ایک سگنل کراس کرنے میں 35 سے 45 منٹ لگ جاتے تھے، جبکہ روزانہ لاکھوں گاڑیاں اس مقام سے گزرتی تھیں، لیکن اب بہت آسانی ہو گئی ہے۔‘
طالبہ حرا سحر کے مطابق پہلے انہیں سڑک عبور کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں، لیکن منصوبہ مکمل ہونے کے بعد صورت حال کافی بہتر ہو گئی ہے۔
پیشے کے اعتبار سے وکیل نور کہتے ہیں کہ پہلے چوک پر گاڑیاں چاروں طرف سے آتی تھیں، جس کی وجہ سے سڑک پار کرنا مشکل اور حادثات کا خطرہ رہتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’انڈر پاس بننے کے بعد نہ صرف رش میں کمی آئی ہے بلکہ سفر بھی پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گیا ہے۔‘
اس تعمیر سے ٹریفک وارڈنز کے لیے بھی آسانی ہوئی ہے۔
ٹریفک وارڈن یاسر محمود کے مطابق کچہری چوک میں طویل عرصے تک انڈر پاس اور فلائی اوورز کی سہولت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے جہلم روڈ اور مال روڈ سے آنے والی ٹریفک اشاروں پر کافی دیر رکی رہتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہاں سے روزانہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں ٹریفک کو منظم کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔‘
بقول یاسر محمود: ’اب ٹریفک بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں ہے اور شہریوں کا وقت ضائع نہیں ہو رہا۔‘
