خیبر پختونخوا اسمبلی اراکین کی مراعات میں کیا اضافہ ہوا؟

خیبر پختونخوا حکومت نے اراکین اسمبلی، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات سے متعلق قوانین منظور کیے ہیں، جبکہ اسمبلی کی رپورٹنگ سے متعلق قانون میں بھی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا پاور، ایمینیٹیز اینڈ پریولیج ایکٹ 1988 میں ترامیم کر کے اراکین اسمبلی کی بعض مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس قانون پر سات مئی کو گورنر نے دستخط کیے تھے، تاہم اس کی کاپی اب منظر عام پر آئی ہے۔

قانون کی شق 13 کے مطابق اراکین اسمبلی کسی بھی سرکاری مہمان خانے، بنگلے یا سرکاری نگرانی میں موجود رہائش گاہ میں تین دن تک مفت قیام کر سکتے ہیں۔ یہ مراعات 1988 کے قانون میں بھی موجود تھی۔

قانون کے تحت اراکین اسمبلی کے لیے نان پروہیبٹڈ اسلحے کے لائسنسوں کی تعداد چار سے بڑھا کر آٹھ کر دی گئی ہے، جن میں چار مفت جبکہ چار متعلقہ فیس ادا کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

1988 کے قانون کے تحت اراکین اسمبلی بدستور ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے اور انہیں ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، مراکز صحت، سوشل ویلفیئر مراکز، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری فنڈڈ اداروں کا معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ترمیم شدہ قانون میں اراکین اسمبلی کی بیگمات کو اسمبلی کا شناختی کارڈ جاری کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔

اسی طرح اراکین اسمبلی ملک بھر کے ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کر سکیں گے جبکہ اراکین اسمبلی اور ان کی بیگمات کو سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے کی شق وفاقی قوانین سے مشروط رکھی گئی ہے۔

نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی مختلف کلبز کی رکنیت سرکاری ملازمین کی طرح حاصل کر سکیں گے اور اپنی ذاتی گاڑیوں میں ٹنٹڈ شیشے بھی استعمال کر سکیں گے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات

اسمبلی نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات سے متعلق بھی قانون منظور کیا ہے۔ اس کے مطابق سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ان کے شریک حیات سرکاری خرچے پر فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کر سکیں گے۔

قانون کے تحت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے دو نجی ملازمین بھی سرکاری خرچے پر اکانومی کلاس میں سفر کر سکیں گے۔

علاوہ ازیں سپیکر، ڈپٹی سپیکر، ان کے شریک حیات اور دو نجی ملازمین ملک کے اندر اور بیرون ملک ٹرین اور فیری کے ذریعے بھی سرکاری خرچے پر سفر کر سکیں گے۔

اسمبلی رپورٹنگ سے متعلق ترامیم

خیبر پختونخوا اسمبلی نے اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔

غلط رپورٹنگ پر سزا پہلے تین ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں تھی، تاہم جرمانہ اب بڑھا کر تین لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح ایسی اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ، جس کی اشاعت کی ممانعت کی گئی ہو، پر پہلے پانچ ہزار روپے جرمانہ تھا، جو اب 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

اسمبلی سے متعلق غیر مہذب مواد کی اشاعت پر جرمانہ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ قید کی سزا چھ ماہ برقرار ہے۔

نئی شقوں کے تحت کسی رکن اسمبلی کے خلاف غیر مہذب اور غیر اخلاقی مواد شائع کرنے پر چھ ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

اسی طرح اسمبلی یا کسی کمیٹی میں پیش نہ ہونے والی کارروائی یا رپورٹ کی اشاعت پر تین ماہ قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

پشاور میں مقیم صحافی لحاظ علی کے مطابق میڈیا سے متعلق زیادہ تر شقیں 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھیں، تاہم اب سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول اہم تبدیلی فنانس کمیٹی کے اختیارات میں اضافہ ہے، جس کے تحت کمیٹی قانون میں ترمیم کے بغیر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق قانون میں تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے کوئی مقررہ رقم درج نہیں، بلکہ ان کی منظوری فنانس کمیٹی سے مشروط رکھی گئی ہے۔

حکومت کا موقف

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری سے متعلق گردش کرنے والی خبریں ’جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد‘ ہیں، کیونکہ پاسپورٹ جاری کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی اور کابینہ کے ارکان پہلے سے موجود قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی مراعات حاصل کر رہے ہیں اور کوئی نئی مراعات شامل نہیں کی گئیں۔

ان کے مطابق : ’اراکین اسمبلی نے کوئی اضافی مراعات نہیں لیں، بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے منظوری کی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *