خلا میں امریکی ہتھیار: ممکنہ خطرناک اثرات و نتائج

امریکہ نے گذشتہ ہفتے یہ انکشاف کیا کہ اس نے خلا میں بھی ہتھیار لگا دیے ہیں، جس سے پوری دنیا میں ان کے اثرات پر بحث چھڑ گئی ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اعلان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ دنیا میں اپنے تسلط کو مضبوط کرنے کے بعد امریکہ اب کائناتی تسلط کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے بڑے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور اقتدار میں خلا میں امریکی تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے ایک خلائی فوج کی تشکیل کا بھی اعلان کیا تھا، جس کے لیے 10 ہزار افراد کو تربیت دی جانی تھی۔ اس مقصد کے لیے یو ایس سپیس اکیڈمی کی تشکیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے گذشتہ مہینے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط بھی کیے ہیں۔

اب تک امریکہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ کس طرح کے ہتھیار خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اس اعلان کے بعد پہلے مرحلے پر امریکہ کے حوالے سے چین اور روس کے شکوک و شبہات بڑھیں گے۔

امریکی حکام نے ہتھیار لگانے کی وجہ بتاتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ روس اور چین جارحانہ انداز میں خلائی تسلط کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا۔

ناقدین کا خیال ہے کہ کیونکہ امریکہ نے 1967 کے خلائی تحفظ کے معاہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خلا کو مسلح کرنے کی ابتدا کی ہے۔ اس لیے یہ عمل یہیں نہیں رکے گا۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چین، روس اور ممکنہ طور پہ دوسرے ممالک بھی خلا کو مسلح کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیں گے۔ 1967 کے معاہدے کے تحت تمام اقوام کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ خلا کو صرف پرامن اور غیر عسکری مقاصد کے لیے استعمال کریں گی۔

چین اور روس نے اپنے ابتدائی ردعمل میں اس امریکی اقدام کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلا کو ہتھیاروں کی دوڑ سے بچائے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ اس کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا پائے گی۔ لہذا اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ چین اور روس بھی خلا کو مسلح کرنے کی سر توڑ کوشش کریں گے۔

ممکنہ طور پہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان بھی اس دوڑ میں بعد میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ مشرق وسطی سے اسرائیل اور ایران بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔

گذشتہ برس عالمی دفاعی بجٹ دو اشاریہ 88 کھرب ڈالر تھا۔ اس امریکی اقدام کے نتیجے میں دنیا بھر میں جنگی اخراجات پر مزید پیسے خرچ ہوں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماجی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے ممالک کو فلاحی کاموں پہ خرچ ہونے والی رقم میں سے کٹوتی کرنی پڑے گی، جس کا نقصان بالاخر پوری دنیا میں ایک عام آدمی کو ہوگا۔

اس امریکی اقدام سے دنیا میں ایک بار پھر لاقانونیت کا راستہ کھلے گا اور ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے جو ماضی میں معاہدے ہوئے تھے اس سے اُن پر بھی ضرب لگے گی۔

تو اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا مزید خطرات سے دوچار ہوگی جبکہ جنگوں اور تصادموں کے امکانات مزید بڑھیں گے۔

انسانوں کی صنعتی اور غیر صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی حدت میں پہلے ہی اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگوں نے عالمی حدت کے مسئلے میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ کیونکہ جنگوں میں سب سے زیادہ تیل کا استعمال ہوتا ہے اور اس سے اٹھنے والی تباہی آلودگی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

دنیا بھر کی فوجیں جن کی بمشکل تعداد دو کروڑ کے قریب ہوگی وہ پہلے ہی چار فیصد کے قریب عالمی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کی موجب ہیں جبکہ دنیا کے آٹھ ارب انسان اگر گائے کا گوشت کھائیں تو وہ عالمی ماحولیاتی آلودگی میں 14 فیصد خرابی کے ذمہ دار ہوں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگر روس اور چین نے بھی اس طرح کے ہتھیار خلا میں لگائے اور اگر کوئی تصادم ہوا تو دنیا بھر کا جی پی ایس سسٹم، ایوی ایشن کا نظام، قدرتی آفات کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کا نظام اور یہاں تک کہ کائنات کا کاروبار حیات بھی بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسے تصادم کی صورت میں دنیا بھر میں بہت بڑی مالوحیاتی تباہی آئے گی، جس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

ایسے ہتھیاروں کا ملبہ انسانی اور حیوانی حیات کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے انسانی صحت پہ دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ اس طرح کے ہتھیاروں کو آسانی سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ لہذا ابہام کی وجہ سے بھی ممالک میں ممکنہ طور پہ تصادم ہو سکتا ہے، جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

امریکی حکمران طبقہ اس وقت اپنے تکبر کی معراج پر ہے۔ وینزویلا اور مشرق وسطی کے تیل کو اپنے زیر تسلط لانے کے بعد صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ وہ دنیا پہ حکمرانی کر سکتے ہیں۔

تاہم ان کے اس خواب میں انسانوں کی زندہ حقیقتیں جل کر خاکستر ہو سکتی ہیں۔

اس مسئلے پر ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ماہرین کو آگے آنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کو اس حوالے سے شعور کی حد تک ہی صحیح فوری طور پر اجلاس بلا کر دنیا بھر کی عوام کو اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔

تاہم سب سے اہم ذمہ داری امریکی عوام کی ہے۔ امریکہ ایک جمہوریت ہے، جہاں پر عوام حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر سکتی ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ کے سارے امن پسند اور ماحول دوست لوگ اس غیر دانش مندانہ امریکی اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ اس کے حوالے سے بڑے بڑے مظاہرے کریں۔

طلبہ، اساتذہ، سائنس دان، دانشور، لکھاری اور صحافی میدان عمل کے سپاہی بنیں اور امریکہ کے حکمران طبقے کو اس جنونیت سے روکیں ورنہ دنیا میں تہذیب وتمدن کی نشانیاں بھی نہیں ملے گی۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *