امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت، لیکن معاہدے سے کافی دور ہیں: ایران

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔

لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق۔

ایران کا جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے اعلان کے بعد دوبارہ اسے بند کرنے کا فیصلہ

لائیو اپ ڈیٹس


امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت، لیکن معاہدے سے کافی دور ہیں: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن محمد باقر قالیباف نے ہفتے کی رات کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن دونوں فریق ابھی کسی معاہدے سے کافی دور ہیں۔

قالیباف نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا ’ہم ابھی حتمی مذاکرات سے بہت دور ہیں۔ ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے، لیکن اب بھی بہت سے خلا موجود ہیں اور کچھ بنیادی نکات حل طلب ہیں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ’چالاکی‘ سے جنگ کا آغاز کیا اور اسے ’تیسری مسلط کردہ جنگ‘ قرار دیا۔ 

ان کے مطابق پچھلی جنگ کے برعکس اس بار ایران کا ردعمل فوری تھا۔

قالیباف نے کہا عوامی شرکت نے اہم کردار ادا کیا اور ’میدان اور سڑک‘ دونوں میں ایران کو برتری حاصل رہی۔ 

ان کے مطابق ایران نے فوجی لحاظ سے پیش رفت کی، ڈرون مار گرائے اور جدید طیاروں (جیسے ایف-35) کو نشانہ بنایا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران مجموعی طاقت میں امریکہ سے زیادہ مضبوط نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ 

ان کے مطابق دشمن ایران کو چند دنوں میں شکست دینا چاہتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے بھیجا، جس پر ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل میں غور کیا گیا۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ایران نے واضح کیا کہ اگر امریکہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا تو ایران بھی جواب دے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ کو شامل کرنا ایران کی شرط تھی۔ 

قالیباف کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور اگر امریکہ نے ’محاصرہ‘ جاری رکھا تو آمدورفت محدود کی جا سکتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کو ’جدوجہد کا ایک طریقہ‘ قرار دیا۔ 

ان کے مطابق ایران بیک وقت سفارت کاری، فوجی طاقت اور عوامی حمایت تینوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ ایران مستقل امن چاہتا ہے تاکہ ’جنگ اور جنگ بندی کے چکر‘ کو ختم کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے ضمانت ضروری ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *