وزارت صحت کے مطابق، جاپان میں 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، ایسے میں جب کہ ملکی آبادی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
وزارت نے منگل کو بتایا کہ ملک میں اب 107677 افراد 100 سال سے زائد عمر کے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً آٹھ ہزار زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں 100 سال سے زائد عمر کے افراد کی سب سے بڑی آبادی ہے۔
56 سال قبل جب سے وزارت نے اس کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے، ہر سال اس تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن یہاں کریں۔
ان افراد میں سے 88 فیصد، یعنی 94,298 خواتین ہیں۔ کیوٹو سے تعلق رکھنے والی 114 سالہ فویو کیشیموتو ملک کی معمر ترین خاتون ہیں، اور کماموتو کے 112 سالہ ہیکارو کاتو معمر ترین مرد ہیں۔
وزیر صحت کینیچیرو اوئینو نے کہا کہ ’مجھے بہت خوشی ہے کہ اتنے زیادہ لوگ طویل عرصے تک فعال اور صحت مند ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ طب اور ٹیکنالوجی میں حقیقی ترقی کا عکاس ہے۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ آبادی کا یہ رجحان جاپان کے سوشل سکیورٹی کے نظام پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق جاپان مسلسل طویل عمر والے ممالک کی فہرست میں شامل رہا ہے، جہاں 2024 میں اوسط عمر 84 سال تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکہ میں یہ 79 سال ہے۔
1963 میں جب ملک نے 100 سالہ افراد کا سروے شروع کیا تو 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد 153 تھی۔ 1981 میں یہ تعداد ایک ہزار اور 1998 میں 10 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
یہ تازہ ترین اعداد و شمار ‘بزرگوں کے احترام’ کی عام تعطیل سے قبل سامنے آئے ہیں، جب حکومت 100 سال کے ہونے والے شہریوں کو ذاتی خطوط اور روایتی ساکے کے پیالے بھیجتی ہے۔
اس سے قبل کی گئی تحقیق میں ڈیٹا کی غلطیوں، غیر مستند عوامی ریکارڈ اور پیدائش کے غائب سرٹیفکیٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی سطح پر 100 سالہ افراد کی مردم شماری پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔
2010 میں جاپان کی فیملی رجسٹریوں کے ایک سرکاری آڈٹ سے پتہ چلا کہ 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد ایسے افراد درج تھے جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا یا وہ دہائیوں پہلے وفات پا چکے تھے۔ اس تضاد کی وجہ ناقص ریکارڈ کو قرار دیا گیا، جبکہ بعض صورتوں میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ خاندانوں نے پینشن وصول کرتے رہنے کے لیے اموات کو چھپایا تھا۔
100 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جاپان کی مجموعی آبادی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ سوشل سکیورٹی ریسرچ کے مطابق، موجودہ کل آبادی تقریباً 12 کروڑ 30 لاکھ ہے جس کے 2070 تک 8 کروڑ 70 لاکھ تک گرنے کا امکان ہے، جو 2008 میں 12 کروڑ 80 لاکھ کی بلند ترین سطح سے 30 فیصد کم ہے۔
گذشتہ سال شرح پیدائش گر کر 1.14 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی، جو آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار 2.1 کی شرح سے بہت کم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس وقت 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہیں اور 2070 تک ان کا تناسب 40 فیصد کے قریب پہنچنے کی توقع ہے۔
2025 میں، جاپان کے 47 میں سے 45 پریفیکچرز میں آبادی میں کمی دیکھی گئی، اور اس کمی کی شرح میں تیزی آ رہی ہے۔
وزیر اعظم ثنائے تاکیچی نے آبادی میں اس کمی کو ایک ‘خاموش ایمرجنسی’ قرار دیا ہے۔
سٹیٹ سبسڈیز اور وہ پروگرام جن کا مقصد لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینا ہے، اب تک شرح پیدائش کو بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔
ماہرین نے اس بحران کی متعدد وجوہات بتائی ہیں، جن میں شادی کے رجحان میں کمی، کام کی جگہوں پر خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور بچوں کی پرورش کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔
