بیوروکریسی کو جوابدہ بنانے کے لیے جوڈیشل کمیٹی ضروری تھی: رکن پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار بننے والے جوڈیشل کمیٹی کے رکن اور رکن صوبائی اسمبلی امجد علی جاوید نے منگل کو کہا ہے کہ بیوروکریسی کو جوابدہ بنانے کے لیے اس کمیٹی کی ضرورت تھی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’موجودہ نظام میں بیورو کریسی کو جوابدہ بنانے کے لیے اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ایسا اختیار پہلے کسی کمیٹی کو نہیں دیا گیا۔‘

سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر مذکورہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی پہلی بار فعال کر دی گئی ہے، جس کے پاس کسی بھی سرکاری افسر کی جزا وسزا کا اختیار ہو گا۔

ترجمان پنجاب اسمبلی راؤ ماجد علی کے مطابق ’کمیٹی کی سربراہی سپیکر نے اپنے پاس نہیں رکھی بلکہ ممبر اسمبلی کو سربراہ بنایا۔ اسی طرح آئینی طور پر اراکین میں بھی ممبران ہی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ریفرنس آنے کے بعد کسی بھی افسر کے خلاف الزام ثابت ہونے پر کارروائی کر سکے گی۔‘

امجد علی جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ ’یہ کمیٹی جوڈیشل اختیارات کی حامل ہو گی۔ یہاں دائر ریفرنس پر فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل بھی نہیں کی جا سکے گی البتہ ہائی کورٹ میں اس کے فیصلے کے خلاف رٹ ضرور دائر کی جا سکے گی۔‘

یاد رہے اس کمیٹی کے حوالے سے اعلی اختیاراتی فورم کی تشکیل پر حکومت اور اپوزیشن اراکین متفق ہیں۔

کمیٹی کا قیام پنجاب اسمبلی پرویلیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی کے تحت عمل میں لایا گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین رکن اسمبلی سردار محمد اویس دریشک مقرر کیے گئے ہیں جبکہ ارکان میں سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجہ، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں۔

سپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی کارروائی میں معاونت کریں گے۔

جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے استحقاق سے متعلق معاملات کی سماعت، تحقیقات اور سپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی کی مجاز ہو گی۔

ڈی پی او قصور پہلے سرکاری آفیسر ہوں گے جن کا معاملہ اس جوڈیشل کمیٹی میں زیر سماعت آئے گا۔ امجد علی جاوید نے اس حوالے سے بتایا ’سپیکر صاحب کا ڈی پی او قصور کے ساتھ ایک کیس کی تفتیش پر تنازع چل رہا ہے۔

’اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے انہیں طلب کر کے انکوائری بھی کی۔ وہ کمیٹی ریفرنس جوڈیشل کمیٹی کو بھیجے گی، پھر کمیٹی اس پر اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔

’اس طرح کے اقدامات سے عوامی سطح پر بھی ممبران اسمبلی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا ’اس سے پہلے جو کمیٹیاں ہیں وہ شکایات پر سماعت کے بعد کارروائی کی صرف سفارش کر سکتی تھیں۔

’روایتی طور پر اس عمل سے کوئی نتجہ نہیں نکلتا تھا۔‘

کمیٹی کی تشکیل پر حکومتی اور اپوزیشن بینچز کا اتحاد

جوڈیشل کمیٹی میں شامل اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے بتایا ’سپیکر نے اپوزیشن سے جوڈیشل کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے دو نام مانگے تھے۔

’میں بھی اس کا رکن ہوں کیونکہ یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ عام طور پر افسران اراکین اسمبلی کی شکایات پر عمل نہیں کرتے۔

’اب اس طرح کی کارروائی کے فورم سے انہیں عوام اور عوامی نمائندوں کی شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ ایسے فورم سے ایوان کے تقدس میں اضافہ ہوگا اور جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔‘

کمیٹی کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پنجاب اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کو نوٹس جاری کرنے، شواہد اور دستاویزات طلب کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کا اختیار حاصل ہوگا، تحقیقات مکمل ہونے پر کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات سپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی۔

کمیٹی اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور نظم و ضبط سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی جب کہ فوجداری اور دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔

استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں کمیٹی سزا یا جرمانے کی سفارش یا متعلقہ قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *