بچے دو ہی اچھے یا سولہ؟

رومانہ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ وہ سفید ململ کے دوپٹے جیسی ہڈیوں کا مجموعہ 16 بچوں کی والدہ ہیں۔ شوہر عمر میں قدرے بزرگ اور روز کی کمائی پہ کام کرنے والا ایک مزدور ہے جبکہ رومانہ گھروں میں کام کرتی ہیں۔

میں اسے پانچ برس سے جانتی ہوں یعنی جب میرے کام شروع کیا تو خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹے سارے کام کرتی اور ایک دن اچانک اس کی دو ننھی بیٹیوں نے آ کر بتایا: ’اماں آج نہیں آئے گی، ہمارے گھر بھائی پیدا ہوا ہے۔‘ ہم سب گھر والے حیران رہ گئے کہ یہ ماجرا کب گزرا۔ یہ اس کا گیارہواں بچہ تھا۔

کچھ ہی دنوں بعد وہ اسی بیٹے کو فخریہ گود میِں لیے کام پہ دوبارہ بھی چلی آئی لیکن ہم نے اسے آرام کا مشورہ دیا۔ پچھلی سردیوں میں اس نے سولہویں بچے کو جنم دیا۔

رومانہ اور اس جیسی لاکھوں عورتوں کی یہ ذہینیت ہے کہ ’بیٹے بہت سے ہوں، وسائل اللہ دے گا۔‘

ہیلتھ لیڈر اور ماہر طالب لاشاری کا ماننا ہے کہ ’ملک میں محکمہ بہبود آبادی تو 1955 میں قائم ہوا تھا لیکن جس طرح کی سرکاری پالیسیاں بنتی رہیں، کوئی خاطر خواہ کام دیکھا جائے تو نہ تب ہوا اور نہ اس کے بعد کیا جا سکا۔ پاکستان میں ملٹی سیکٹورل حکمت عملی کی ضرورت ہے لیکن اس پر توجہ کم دی گئی۔‘

بقول طالب لاشاری، اگر خواتین میں خواندگی کی شرح بڑھائی جا سکے اور وہ ملکی ورک فورس کا حصہ بنیں گی، تبھی ہم آبادی کے سیلاب پہ بند باندھ سکتے ہیں۔ ورنہ صوبائی سطح پہ کی جانے والی خالی مانع حمل سوشل مارکیٹنگ کوششیں اکثر دم توڑتی ملی ہیں۔ ہمیں تعلیم کی مدد سے ایک پورے مائنڈ سیٹ یا سوچ کے زاویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں خواتین کے سٹیٹس سے وابستہ کونسل کی پہلی چیئرپرسن محترمہ فوزیہ شاہین سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے آبادی اور ملکی جی ڈی پی کے درمیان تناسب مِیں بگاڑ کی بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ، ہم عورتوں کے کام کو، گھر کے کام کو جی ڈی پی میں کہیں شامل نہیں کرتے۔ خواتین کے اجرت یافتہ اورغیر اجرت یافتہ کام کو جی دی پی سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا کام نظر آئے۔ مثال کے طور ریڑھی والا کھانا تو بیچ رہا ہے لیکن پکانے والی کی کوئی گنتی نہیں۔ خواتین گھروں میں دست کاری سے جڑی ہوتی ہیں لیکن معیشت کے پہیے کو آگے بڑھانے میں گنتی صرف بیچنے والے کی ہوتی ہے۔‘

ملک کی 80 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ملکی لیبر فورس میں خواتین کی حصے داری کو بڑی حد تک شمار ہی نہیں کیا گیا۔ وہ صرف افزائش نسل کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ جب خواتین کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو گا اور بہبود آبادی کے ادارے ملکی سطح پہ فعال تر ہوں گے، تبھی ہم پڑوسی ممالک سے ترقی کی دوڑ میں قدم ملا سکیں گے۔ بنگلہ دیش اور چین کی مثالیں ہمارے لیے موجود ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پالیسی اور حکمت عملی کے ماہر کاظم سعید کہتے ہیں کہ ملکی معیشت کے اتار چڑھاؤ کا بلواسطہ تعلق ملکی آبادی سے ہے۔ ان کے بقول: ’جتنی آبادی بڑھے گی، ان کی تعلیم و صحت اور کمائی کے ذرائع مہیا کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ پچیس تیس سال قبل ہماری ملکی ورک فورس میں سالانہ دس لاکھ نوجوان داخل ہوتے تھے اور اس وقت ان کی شرح پچیس تیس لاکھ کی رینج میں ہے۔ یعنی اسی تناسب سے روزگار کے مواقع بھی مہیا کیے جانے چاہییں اور وہ ہو نہیں رہا۔ اسی لیے نوجوان بہت ہی کم اجرت والے کاموں میں اپنا روزگار تلاش کرتے ہیں، جیسے زراعت اور تعمیرات کے کام میں ہمیں وہ اپنا مستقبل ڈھونڈتے ملتے ہیں۔‘

وہ روزگار جہاں تعلیم کی کمی بھی معنی نہیں رکھتی جیسے، دکان داری یا ڈھابوں پہ کام۔ ہمارے نوجوان ان کاموں مِیں جت جاتے ہیں، جو جی ڈی پی پہ اثر انداز نہیں ہوتے، لہذا ان شعبوں پہ کام کرنے کی ضرورت ہے، جو ملک میں روزگار، تعلیم و صحت کو فروغ دے سکیں اور معیشت کے پلڑے کو بے ہنگم آبادی کی چکی کے پاٹ تلے کچلے جانے سے بچا سکیں۔

پچھلے دنوں وفاقی وزیر صحت نے فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر سے بھی درخواست کی وہ ملکی سطح پہ آبادی کے کنٹرول کی مہم میں اپنا کردار دا کریں۔ جب معیشت کا پلڑا مضبوط ہو تو ملکی سلامتی پہ بھی آنچ نہیں آتی کیونکہ ملکی ورک فورس میں نوجوان روزگار کے بہتر مواقعوں کے باعث سکیورٹی خدشہ نہیں بن پاتے۔

ماہر معاشیات اور این ایف سی ایوارڈ کے بورڈ ممبر اسد سعید کا بھی یہی ماننا ہے کہ ’فیملی پلاننگ کے حوالے سے 1960 میں جس وزارت کا قیام ہوا تھا، اس کا کچھ خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکا تھا۔ ماضی میں بہبود آبادی کو کنکرنٹ لسٹ کا حصہ بنایا گیا تھا، وفاقی اور صوبائی سطحوں پہ بھی کام کیا گیا جاتا رہا ہے، 2018 تک یہی سلسلہ جاری رہا۔ صوبوں نے اپنے طور پہ بہتر کام کیا۔ ریاستی سطح پہ اس کو مزید ترجیح دینے کی ضرورت ہے، خواتین کی خواندگی کی شرح میں اضافے اور ملکی جی ڈی پی میں ان کے حصے کو واضح ترجیح ماننے کی ضرورت ہے۔‘

جب کسی بھی ملک کی مرکزی شخصیات کی طرف سے کسی بھی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کو ترجیحاتی بنیادوں پہ دہرایا جاتا ہے، تب ہی قومیں اعتماد سے آگے بڑھتی ہیں۔ ورنہ رومانہ جیسے خاندانوں میں ہم سالانہ اضافہ دیکھتے رہیں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *