بچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ

ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچے سوشل میڈیا اور گیمنگ پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے عمر کی حد سے بچنے کے طریقے استعمال کر رہے ہیں، جیسے جعلی تاریخ پیدائش دینا یا اپنی شکل بدلنے کے لیے مصنوعی مونچھیں بنانا۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک تہائی سے زیادہ بچوں نے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت نافذ کردہ عمر کی تصدیق کے نظام سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا ہے۔ 

اس قانون کے تحت تمام پورنوگرافی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور وہ آن لائن پلیٹ فارم جو بچوں کے استعمال میں آ سکتے ہیں، عمر کی تصدیق کرنے کے پابند ہیں۔

عام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کم از کم 13 سال کی عمر اور پورنوگرافی ویب سائٹس 18 سال سے زائد عمر کا تقاضا کرتی ہیں۔

نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہر چھ میں سے ایک والدین نے اپنے بچے کو عمر کی تصدیق سے بچنے میں مدد کی جبکہ بچوں نے بتایا کہ وہ ان پلیٹ فارمز کو دھوکہ دے کر خود کو بڑا ظاہر کرتے ہیں۔

والدین نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی کو بے وقوف بنانے کے لیے مصنوعی مونچھیں بناتے ہوئے پکڑا۔ 

ایک ماں نے کہا ’میں نے اپنے بیٹے کو بھنوؤں کے پینسل سے مونچھیں بناتے پکڑا اور سسٹم نے اسے 15 سال کا سمجھ کر تصدیق کر دی۔‘

آن لائن سیفٹی تنظیم انٹرنیٹ میٹرز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً نصف بچوں نے بتایا کہ انھیں حال ہی میں کسی سوشل میڈیا یا گیمنگ پلیٹ فارم پر اپنی عمر کی تصدیق کرنے کو کہا گیا۔

1000 برطانوی بچوں کے نمونے میں سے 46 فیصد کا کہنا تھا کہ عمر کی جانچ کو بائی پاس کرنا بہت آسان ہے جبکہ 32 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ ایسا پہلے ہی کر چکے ہیں۔

محققین نے یہ بھی پایا کہ 49 فیصد بچوں کو حال ہی میں آن لائن نقصان دہ مواد کا سامنا ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ بچوں کے آن لائن ماحول کو بہتر بنانے لگا ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ ریگولیٹرز اور پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق ’بچوں کو اب بھی ناقابل قبول حد تک نقصان دہ مواد کا سامنا ہے جبکہ عمر کی تصدیق کے بہت سے طریقے عملی طور پر غیر مؤثر یا آسانی سے بائی پاس کیے جا سکتے ہیں۔

’حکومت کو چاہیے کہ موجودہ قانون پر سختی سے عمل کروائے اور جہاں عمل نہ ہو وہاں سخت کارروائی کرے۔ اسے قانون میں موجود خامیوں کو بھی فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔‘

یہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت غور کر رہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مزید پابندیاں یا مکمل پابندی لگائی جائے۔

محکمہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ترجمان نے کہا کہ قانون بالکل واضح ہے کہ پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچائیں۔

انہوں نے مزید کہا ’کمپنیاں بچوں کو نقصان پہنچنے پر آنکھ بند کر کے نہیں بیٹھ سکتیں۔ آف کام کو قانون نافذ کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔‘

حکومت کے مطابق وہ عمر کی حدود، محفوظ ڈیزائن اور حتیٰ کہ مکمل سوشل میڈیا پابندی جیسے اقدامات پر مشاورت کر رہی ہے اور تازہ ترین شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔

آف کام کے ترجمان نے کہا ’یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ کیوں اہم ہے۔ عمر کی تصدیق کے بغیر، بچے ان خطرات سے دوچار رہے جن کا انہوں نے انتخاب بھی نہیں کیا اور جن پلیٹ فارمز سے وہ بچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کمزور یا قابل بائی پاس عمر چیکس قابل قبول نہیں۔

’ہم نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا کہا ہے اور جہاں ضرورت پڑی ہم کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *