اسرائیلی ڈونرز نے بیروت کے لوگوں کا آسمان سے تعلق بدل دیا

لبنان میں جنگ کے زمانے میں زبان محض حقیقت کا غیرجانب دار بیان نہیں ہوتی بلکہ اسے قابو میں لانے یا کم از کم اس کا بوجھ ہلکا کرنے کا ایک وسیلہ بن جاتی ہے۔

عوامی شعور میں اسرائیلی ڈرون اب صرف عسکری آلات یا نگرانی کی ٹیکنالوجی نہیں رہے بلکہ وہ روزمرّہ کی گفتگو میں طنزیہ اور عوامی ناموں سے داخل ہو چکے ہیں۔

جیسے ’بھَن بھَن‘ اور ’اُم کامل‘، جو اسرائیلی ڈرون کے مخفف ’ایم کے‘ سے نکلا ہوا ایک مقامی تمثیلی نام ہے اور جسے لوگوں نے ’کامل کی ماں‘ کی صورت اختیار کرا دی ہے۔

گذشتہ تقریباً تین سال سے یہ ڈرون نہ لبنان کے آسمان سے ہٹے ہیں اور نہ ہی لوگوں کے کانوں سے۔

یہ نام محض لسانی جزئیات نہیں۔ یہ دکھاتے ہیں کہ لبنان کی عوامی ثقافت تشدد کا سامنا کس طرح کرتی ہے، خواہ یہ تشدد صرف آواز کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

اس طرح ایک خوف ناک آلہ کسی ایسی چیز میں بدل جاتا ہے جسے نام دیا جا سکے، جس کا مذاق بنایا جا سکے اور جو زبان کے ذریعے علامتی طور پر قابو میں کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں روزمرہ کے ایسے فقرے بھی سامنے آئے ہیں جو ڈرون کے حوالے سے استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے ’آج تو آنے کی زحمت کر لی‘ یا ’یہ آ گیا‘۔

یہ ایسے طنزیہ جملے ہیں جیسے کسی ناپسندیدہ مہمان کو کہا جاتا ہے، جس کی بار بار آمد نے اس طنزیہ مزاح کو ایک زندہ رہنے کی حکمت عملی میں بدل دیا ہے۔

’آنے کی زحمت کر لی‘

بیروت میں ڈرون کی بھنبھناہٹ اب روزمرہ زندگی میں عارضی آواز نہیں رہی بلکہ یہ ایک مستقل موجودگی بن چکی ہے، جس نے رہائشیوں، شہر اور خود آسمان کے ساتھ ان کے رشتے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اس دارالحکومت میں جنگ اب محض دھماکوں یا ملبے کے تماشے تک محدود نہیں۔ یہ ایک مسلسل صوتی فضا کی طرح جھیلی جاتی ہے۔

ایک مدھم، نہ ٹوٹنے والی گونج جو یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ آسمان اب غیرجانب دار نہیں رہا بلکہ نگرانی اور ممکنہ حملے کے نظام کا حصہ بن چکا ہے۔

سماج اس مداخلت کا سامنا ایک ہی لسانی زاویے سے نہیں کرتا۔ کچھ اسے ’بھَن بھَن‘ کہتے ہیں، کچھ اسے ’اُم کامل‘ کا انسانی روپ دیتے ہیں اور کچھ اسے واپسی پر طنزیہ جملے سے خوش آمدید کہتے ہیں ’آنے کی زحمت کر لی‘ — ان میں سے کوئی بھی حقیقتاً قبولیت کی علامت نہیں۔

بلکہ یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرے نے ایک ایسی زبان پیدا کر لی ہے جس کے ذریعے وہ اس چیز کو قابو میں رکھ سکے جسے وہ عملی طور پر روک نہیں سکتا۔

اسی روشنی میں بیروت میں ڈرون کے گرد ابھرنے والی عوامی لغت محض لفظی حاشیہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی اشارہ ہے کہ مسلسل تشدد کو کس طرح برتا جاتا ہے اور مزاح کس طرح ایک اجتماعی نفسیاتی ریکارڈ میں ڈھل جاتا ہے۔

’راہ ہی بدل جاتی ہے‘

ڈلیوری ڈرائیور محمود بیروت کی گنجان سڑکوں سے گزرتے ہوئے گاڑی سے زیادہ اپنے فون پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ ایسا نہیں کہ وہ کھو گئے تھے بلکہ اس لیے کہ انہیں جی پی ایس پر بھروسا نہیں رہا۔

وہ آسمان سے آتی مدھم گونج کے شور میں اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں ’کبھی سگنل بالکل غائب ہو جاتا ہے، کبھی غلط راستہ دکھاتا ہے۔ نہیں جانتا یہ مداخلت ہے یا کچھ اور لیکن یہ معمول کی بات نہیں۔‘

وہ لمحہ بھر رک کر اوپر دیکھتے ہیں اور تلخی سے مسکرا دیتے ہیں۔ ’اب کام کو دوہری توجہ چاہیے: صرف زمین پر کیا ہو رہا ہے نہیں بلکہ آسمان سے کیا آرہا ہے۔‘

’کبوتر پہلے محسوس کر لیتے ہیں‘

مغربی بیروت کے علاقے راس النبیٰ میں ایک پرانی عمارت کی چھت پر جہاں سے شہر کا آسمان پھیلا دکھائی دیتا ہے، کبوتر پالنے والے ابراہیم نے ایک ہلکی سی سیٹی بجائی۔

کبوتروں کے غول ٹوٹی پھوٹی قوسوں میں ان کے آس پاس چکّر لگاتے ہیں، لیکن اب وہ پہلے جیسا نہیں اڑتے۔

ان کی بےچینی دیکھ کر وہ ’انڈیپنڈنٹ عربیہ‘ کو بتاتے ہیں ’کبوتر ہم سے پہلے محسوس کر لیتے ہیں۔ جب ڈرون گزرتا ہے تو یہ اچانک سمت بدل لیتے ہیں، جیسے وہ کچھ دیکھ لیتے ہوں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔‘

وہ ایک کبوتر کو نرمی سے سینے سے لگا کر کہتے ہیں ’یہ میرے بچے ہیں اور اگر انہیں خوف محسوس ہو تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ خطرہ قریب ہے۔‘

ادھر حمرا کے مصروف علاقے میں ٹیکسی ڈرائیور علی ایک ہاتھ سے سٹیئرنگ تھامے اور دوسرے سے ریڈیو کی آواز کم کرتے ہوئے کہتے ہیں، مسافروں کی نہیں، آسمان کی آواز سننے کے لیے۔

وہ پرسکون لہجے میں کہتے ہیں ’یہ آواز کبھی نہیں جاتی، چاہے صاف سنائی دے یا نہ دے؛ بس اس کی موجودگی محسوس ہوتی رہتی ہے۔‘

وہ لمحہ بھر رک کر مزید کہتے ہیں ’ہم اس آواز کے عادی کبھی نہیں ہوں گے، اسی لیے میں موسیقی جان بوجھ کر ہلکی رکھتا ہوں‘، جیسے اسے بجھا دینے کی کوشش ہو۔

’یہ آواز کبھی معمول نہیں بنے گی‘

بیروت نے، جو طویل عرصے سے فن اور تخلیق کا شہر سمجھا جاتا ہے، ڈرون کو بھی اپنی ثقافت کا حصہ بنا لیا ہے، چاہے براہِ راست یا بالواسطہ۔

 یہ فنکار کی آگہی، اس کے برش اور اس کے فن کی روح میں سرایت کر چکا ہے۔

تخلیقی فنکار کریم مسعود کہتے ہیں ’بیروت میری ماں کی طرح ہے۔ ایک ایسی عورت جو بےپناہ مصائب، بے شمار محرومیوں سے گزری مگر ہر بار خود کو سنبھالتی ہے، گھر کو ترتیب دیتی ہے اور زندگی کو پھر گلے لگانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔

’نہ وہ معجزہ مانگتی ہے، نہ فتح کا اعلان کرتی ہے۔ بس جاری رہتی ہے۔‘

وہ ہلکے طنز کے ساتھ مسکراتے ہیں ’رہا سوال ڈرون کا؟ مجھے نہیں لگتا بیروت انہیں جواب دینے کی بھی زحمت کرے گا۔ یہ ہزاروں سال پرانا شہر عارضی شور سے الجھتا نہیں۔‘

’میں جنوبی لبنان کا ہوں، ساری جنگیں دیکھ چکا ہوں مگر ڈرون کی آواز مختلف ہے۔ یہ اعصاب پر نفسیاتی گھاؤ کرتی ہے، جیسے جنگ اب زمین تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہن میں بھی سرایت کر گئی ہو۔ کاش اسے ہاتھوں سے پکڑ کر کچل سکتا۔‘

اپنے فن پر اثر کے بارے میں انہوں نے کہا ’اطمینان کی کمی براہِ راست فن اور ثقافتی موسموں کو متاثر کرتی ہے۔ ہر چیز پر شک کا پردہ پڑ جاتا ہے۔

’یہ آواز کبھی معمول نہیں بنے گی۔ میں اس کا عادی نہیں بنوں گا۔ یہ شہر اور اس کی آزادی پر ایک مستقل حملہ ہے۔ ایک دن یہ ختم ہو جائے گی لیکن یاد ضرور رہے گی، قبول کبھی نہیں ہو گی۔‘

’بیروت کو ایک تصویر میں سمیٹا نہیں جا سکتا‘

برطانوی مصور ٹام ینگ، جو دہائی سے زائد عرصہ سے بیروت میں رہ رہے ہیں، کہتے ہیں ’بیروت میں ایک پوشیدہ توانائی ہے جو آنکھ سے نظر نہیں آتی مگر محسوس ہوتی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں ’میں اپنی تصویروں میں شکل نہیں بناتا بلکہ اس بہتی ہوئی کیفیت کو پکڑتا ہوں جو شہر میں جاری رہتی ہے۔ اس کے لوگوں کی روح، ان کی ہمت، ان کی گرمی، ان کی سخاوت۔‘

ان کا تاثر اس وقت گہرا ہوا جب انہوں نے شہر کے ساحل پر خیموں میں رہنے والے بے گھر خاندانوں کے ساتھ وقت گزارا، جہاں درد اور زندگی دونوں ساتھ ساتھ بہتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’بیروت کو ایک تصویر میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ساتھ جنگ کی سختی بھی ہے اور روشنی کی خوبصورتی بھی، ملبہ بھی اور گرمی بھی۔

’یہ تہہ دار شہر ہے، نہ اسے ایک کہانی میں سمونے کی کوشش کی جا سکتی ہے اور نہ یک جہتی تصویر میں۔‘

مگر اس خوبصورتی کو ڈرون کے اثر سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جو ان کی فنکاری میں بھی شامل ہو چکا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ کبھی وہ آسمان کو موٹی سیاہ تہوں میں رنگتے ہیں اور پھر اس پر محلول پھیر کر اسے ’آنسوؤں‘ کی طرح پھاڑ دیتے ہیں، جیسے اوپر سے کوئی غم رس رہا ہو۔

’وہ بعض تصویریں ڈرون کی حقیقی آواز سنتے ہوئے بناتے ہیں، جیسے کینوس براہِ راست تجربے کا نقشہ بن جائے۔

وہ کہتے ہیں ’اس مسلسل آواز کے نیچے رہنا ذہنی طور پر بےچینی کا باعث ہے لیکن یہ ایک مشترکہ تجربہ بھی ہے۔

’میرے لیے بیروت میں رہ کر پینٹنگ جاری رکھنا ایک طرح کی تخلیقی استقامت ہے، شور مچانے والی مزاحمت نہیں، بلکہ خاموش گواہی۔ خوف کو معنی میں بدلنے کی کوشش۔‘

’ہم آواز دبانے کو موسیقی اونچی کر دیتے ہیں‘

منارہ کے ساحل کنارے، جہاں سمندر افق تک پھیلا ہے، ڈرون کی آواز نسبتاً ہلکی محسوس ہوتی ہے۔

سپورٹس مینیجر ولید شاکر بتاتے ہیں کہ یہ مقام انہیں نفسیاتی فاصلہ فراہم کرتا ہے۔ ’یہاں آواز جیسے تھوڑی دور ہو جاتی ہے۔‘

مگر انہوں نے اپنی روزمرہ مصروفیات نہیں بدلی۔ ’کبھی کبھی ہم موسیقی اونچی کر دیتے ہیں۔ گاڑی میں یا گھر میں،  بس اسے دبانے کے لیے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ زندگی کا سلسلہ نہ رکے۔‘

’روزمرہ کو برقرار رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ میرے لیے دوڑنا محض ورزش نہیں بلکہ توازن کا ذریعہ ہے۔‘

وہ خوف کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہاں، تھوڑا سا خوف ہے مگر یہ لوگوں کی زندگی اصل طور پر نہیں بدلتا۔‘

آسمان میں نظر رکھنے والی آنکھ

سماجی کام کے ماہر اور لبنانی امریکن یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر رائد محسن کہتے ہیں ’بیروت میں ڈرون کا اثر جنگ کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں۔ یہ معمولی تفصیل نہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ روزمرہ کے نفسیاتی بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جنگ کو لوگوں کو تھکانے کے لیے ہمیشہ بمباری کی ضرورت نہیں۔ کبھی محض یہ مستقل، نظر نہ آنے والی گونج ہی اعصاب کو تھکا دینے کو کافی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ڈرون کا اثر ہر فرد پر مختلف ہوتا ہے۔ کچھ اسے شدید بےچینی یا اداسی میں بدلتا ہوا محسوس کرتے ہیں، کچھ انکار، مصروفیت، یا جبری موافقت جیسے طریقوں سے خود کو سنبھالتے ہیں۔

’اثر یکساں نہیں، مگر کسی نہ کسی سطح پر سب کو چھوتا ضرور ہے۔‘

ڈاکٹر محسن کے مطابق نگرانی کا احساس اس آواز سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔

’ڈرون کی موجودگی مسلسل بے پردگی کا احساس پیدا کرتی ہے، جو صرف سکیورٹی خدشہ نہیں بلکہ وجودی خوف ہے۔

’بالکونیاں، گھر، نجی مقامات، سب جیسے آسمانی آنکھ کے سامنے کھلے ہیں۔ یہ احساس تحفظ کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’اس کے دو رخ ہیں: ایک تو وہ نفسیاتی طریقہ جس سے لوگ خود کو زندگی کے قابل رکھتے ہیں۔ دوسرا وہ خطرناک معمول جس میں خوف عادت بن جاتا ہے۔

’اصل خطرہ خود ڈرون نہیں بلکہ ان کی موجودگی کا معمول بن جانا ہے۔ جب روزمرہ میں یہ مداخلت عام ہو جائے تو وقار خاموشی سے مٹتا چلا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’یہی سب سے خطرناک تبدیلی ہے۔‘

نوٹ: یہ مضمون اس سے پہلے انڈپینڈنٹ عربیہ پر شائع ہو چکا ہے۔

ترجمہ: ڈالیہ محمد۔ نظرِ ثانی: طوبہ کوثر اور سلین اساف


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *