بنگلہ دیش کے سابق کرکٹ کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور پیٹرول بم پھینکے گئے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب بنگلہ دیشی کرکٹر نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی 2024 میں اقتدار سے برطرفی کے بعد ذرائع ابلاغ سے ان کی پہلی عوامی گفتگو میں شرکت کی۔
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے دسمبر میں واپس آنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پولیس کے مطابق بدھ کو لوگوں کے ایک گروپ نے دارالحکومت ڈھاکہ سے تقریبا 170 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ماگورا شہر میں شکیب الحسن کے آبائی گھر پر حملہ کیا، جس سے گھر کی بالائی منزل پر آگ لگ گئی۔
حملے کے وقت گھر خالی تھا اور کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
روئٹرز نے حملے پر ردعمل جاننے کے لیے شکیب الحسن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔
حملہ اس تقریب کے چند گھنٹے بعد ہوا جس میں عوامی لیگ کے سابق رکن پارلیمان شکیب الحسن نے نئی دہلی میں فارن کرسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام ایک آن لائن تقریب میں شرکت کی۔ آڈیو خطاب میں شیخ حسینہ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ بنگلہ دیش واپس جائیں گی، جہاں انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
شکیب الحسن جنوری 2024 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔ طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے وہ بنگلہ دیش سے باہر ہیں۔ ان کے خلاف قتل، رقم کے ناجائز استعمال، دھوکا دہی اور منی لانڈرنگ کے الزامات سمیت کئی الزامات میں تحقیقات جاری ہیں۔
شیخ حسینہ نے کہا، ’میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں جانتی ہوں کہ وہ مجھے جیل میں ڈال سکتے ہیں یا مار سکتے ہیں، لیکن پھر بھی مجھے واپس جانا ہے۔‘
یہ تقریب شیخ حسینہ کی اقتدار سے برطرفی کے دو سال مکمل ہونے پر ہوئی۔ 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ یہ ان کی پہلی عوامی گفتگو تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شیخ حسینہ نے یہ بھی کہا کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جانی چاہیے۔ شیخ حسینہ نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس جماعت کی قیادت کی، لیکن ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعت کو سیاسی سرگرمیوں سے روک دیا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے شیخ حسینہ کی میڈیا گفتگو کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بنگلہ دیش کی خود مختاری کی توہین‘ قرار دیا۔ وزارت نے خبردار کیا کہ انہیں انڈیا سے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت دینے سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 سے نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش نے انڈیا سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا اپنے قانونی طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے 2024 کی طلبہ بغاوت کے خلاف مہلک کارروائی کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ شیخ حسینہ ان الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کرتی ہیں۔
