بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چینی سے احتیاط برتیں کریں یا کیلوریز سے؟

بلڈ شوگر (خون میں شکر) کی متوازن سطح کو برقرار رکھنا ذیابیطس سے بچاؤ، بیماریوں کو دور رکھنے اور دل کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

خون میں شکر کی سطح کا بہت زیادہ کم یا بہت زیادہ ہو جانا آپ کی صحت کے لیے منفی اور بعض اوقات جان لیوا نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق رات بھر کے فاقے کے بعد خون میں شکر کی سطح 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہونا نارمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ 126 ملی

 گرام سے زیادہ کی سطح ظاہر کرتی ہے کہ مریض پری ڈائیبیٹک ہے یا اسے ذیابیطس ہے، جس سے دل کی بیماری یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لوگ اپنی غذا میں چینی کی مقدار کو کم کر کے اور صحت بخش ذرائع سے اسے حاصل کر کے اپنی شوگر کو نارمل حد میں رکھ سکتے ہیں۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں کس چیز پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، چینی پر یا کیلوریز (توانائی) کی مقدار پر؟

رجسٹرڈ ڈائیٹیشن برٹنی پولسن نے پیر کو ’ویری ویل ہیلتھ‘ میں وضاحت کی کہ چینی کی مقدار کو کم کرنا یا بڑھانا قلیل مدتی حاظ سے اہم ہے جبکہ کیلوریز کی طویل مدتی اہمیت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ ’یا تو یہ یا وہ‘ والا معاملہ نہیں۔ چینی آپ کی بلڈ شوگر کو قلیل مدت میں متاثر کرتی ہے جبکہ کیلوریز وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی میٹابولک صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

’صرف ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے سے بہتر کنٹرول کے مواقع ضائع ہو سکتے ہیں۔‘

اپنی صحت کی بہترین حفاظت کے لیے لوگوں کو اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں اور کب کھا رہے ہیں۔

ہائی بلڈ شوگر (شوگر کا بڑھ جانا)

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق ہائی بلڈ شوگر کی وجہ معمول سے زیادہ کھانا، انسولین کی ناکافی مقدار، ذہنی دباؤ یا شدید بیماری ہو سکتی ہے۔

اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ گردوں کی بیماری، دل کے امراض اور اعصابی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق اس کی علامات میں دھندلا نظر آنا، بار بار پیشاب آنا، پیاس لگنا، سر درد اور تھکاوٹ محسوس ہونا شامل ہو سکتی ہے۔

اگر آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ آپ ہائی بلڈ شوگر کا شکار ہو سکتے ہیں تو شامل کردہ شکر (added sugars) والے ذرائع جیسے سوڈا، کیک، میٹھے اناج اور سفید ڈبل روٹی سے پرہیز کریں۔

کاربوہائیڈریٹس کو پروٹین یا صحت بخش چکنائی کے ساتھ ملا کر کھانے سے جسم میں شوگر جذب ہونے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹوسٹ کے ساتھ انڈے کی سفیدی یا سیب کے ٹکڑوں کے ساتھ پینٹ بٹر شامل کیا جا سکتا ہے۔

فائبر سے بھرپور کاربوہائیڈریٹس بھی ایسا ہی اثر رکھتے ہیں، لہٰذا شکر قندی، جو اور لوبیا کا استعمال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پولسن نے کہا کہ مجموعی طور پر کھانے کے اطوار کسی ایک غذا سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ لہذا کھانے کی مقدار کا خیال رکھیں اور اپنی ضرورت کے مطابق اسے بہتر بنائیں۔

اگر ضرورت ہو تو گلوکوز میٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شوگر لیول چیک کریں۔

انہوں نے مزید کہا ’وقت کے ساتھ ساتھ، چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں خون میں شوگر کو زیادہ مستحکم کرنے اور آپ کے کھانے کے انتخاب میں اعتماد پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔‘

لو بلڈ شوگر (شوگر کا کم ہو جانا)

سی ڈی سی کے مطابق لو بلڈ شوگر کی وجہ کھانا چھوڑنا، معمول سے زیادہ جسمانی سرگرمی، شراب نوشی اور انسولین یا ذیابیطس کی دیگر ادویات کی زیادہ مقدار لینا ہو سکتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق اس سے کپکپاہٹ، پسینہ آنا، چکر آنا، بھوک اور الجھن ہو سکتی ہے۔

بلڈ شوگر کی سطح بڑھانے کے لیے ادارہ 15 گرام فوری اثر کرنے والے کاربوہائیڈریٹس (جیسے جیلی بینز یا میپل سیرپ) کھانے اور بلڈ شوگر دوبارہ چیک کرنے کے لیے 15 منٹ انتظار کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اسے ’15-15 کا اصول‘ کہا جاتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ’اگر شوگر اب بھی 70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہو، تو اس عمل کو دہرائیں۔‘

اگر بلڈ شوگر کی سطح 55 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے نیچے گر جائے تو اسے شدید کمی سمجھا جاتا ہے اور اس سے لوگوں کو دورے پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سی ڈی سی کا کہنا ہے ’آپ اسے شاید 15-15 کے اصول سے ٹھیک نہ کر پائیں۔ اپنی علامات کی بنیاد پر آپ شاید خود اپنی شوگر چیک کرنے یا اسے ٹھیک کرنے کے قابل نہ ہوں۔

’ایسی صورت میں انجیکٹیبل گلوکاگون شدید لو بلڈ شوگر کے علاج کا بہترین طریقہ ہے۔‘

دو منٹ کا حل

لیکن صرف غذا ہی نہیں جو بلڈ شوگر کو متاثر کر سکتی ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق آگاہ رہیں کہ کچھ لوگوں کی بلڈ شوگر تب بڑھ سکتی ہے جب وہ رات کو سات گھنٹے کی تجویز کردہ نیند پوری نہ کریں، پانی کی کمی ہو، کیفین کا استعمال کریں، کھانا چھوڑ دیں یا دھوپ سے جھلس جائیں۔

یہاں تک کہ دن کا وقت بھی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔

صبح سویرے ہارمونز کا اخراج بلڈ شوگر میں تیزی کا باعث بن سکتا ہے اور دن کے بعد میں شوگر کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یورپی محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن کے کسی بھی وقت بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے کا فوری طریقہ چاہتے ہیں تو صرف دو منٹ کی چہل قدمی کافی ہے۔

امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق، باقاعدگی سے ورزش کرنا آپ کے جسم کو انسولین کے لیے زیادہ حساس بنا کر ورزش کے 24 گھنٹے یا اس سے زیادہ بعد تک بلڈ شوگر کو کم رکھ سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *