بلوچستان حکومت کے مطابق ضلع بارکھان میں مسلح افراد کے حملے میں پولیس کا ایک افسر جان سے گیا، جبکہ صوبے کے دو مختلف علاقوں سے گیارہ افراد کو اغوا کر لیا گیا، جن میں سات مزدور شامل ہیں۔
پولیس افسر کے مارے جانے کا واقعہ ضلع بارکھان کے علاقے کھٹکے میں پیش آیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے پولیس افسر کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کالعدم بی ایل اے کے افراد نے ناکہ لگا رکھا تھا۔ ‘
اس دوران ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ان کا گن مین وہاں سے گزر رہے تھے کہ انہیں اغوا کیا گیا، جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ رکھنی میں عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے اور مزید نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔
شاہد رند کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی جان سے گئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کا ہر قیمت پر قلع قمع کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔‘
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون کے مطابق پیر کو ایک اور واقعے میں تربت میں کلاتک کے مقام پر مسلح افراد نے قومی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی میں سوار سات مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے بتایا کہ مغویوں میں سے ایک مزدور کو مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا، جبکہ چھ افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
مغویوں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز موقعے پر پہنچ گئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دوران مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر ایک مقامی راہگیر عبدالرزاق جان سے گیا۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کمپنی حکام کے مطابق خضدار میں ایک اور واقعے میں تین روز قبل مسلح افراد نے ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے پروجیکٹ مینیجر سمیت چار افراد کو اغوا کر لیا۔
یہ کمپنی ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔
اغوا ہونے والوں میں پروجیکٹ مینیجر آفتاب احمد منگی، سعید اللہ، عبداللہ سولنگی اور ڈرائیور محی الدین شامل ہیں۔ اس سے قبل ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے کوریئر کمپنی کے دو ملازمین لاپتہ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پیر کو ضلع چاغی کے علاقے پدگ میں مسلح افراد نے سات مال بردار گاڑیوں اور ایک آئل ٹینکر کو آگ لگا دی۔ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک ڈرائیور زخمی ہوا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ تافتان قومی شاہراہ پر پدگ کے مقام پر پیش آیا۔ اس شاہراہ پر اب تک درجنوں ٹرکوں، آئل ٹینکروں اور ایل پی جی گیس باؤزرز کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔
