پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ رواں سال سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے جن میں 2084 دہشت گردوں کو مارا گیا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 819 سکیورٹی اہلکار اور 322 عام شہری جانوں سے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ آپریشنز بلوچستان میں کیے گئے جہاں انڈیا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف 31 ہزار سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں۔ خیبر پختونخوا میں سات ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک بھر میں تین ہزار 145 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں سب سے زیادہ واقعات خبیر پختونخوا میں 1971، بلوچستان میں 1148 اور باقی ملک میں 2091 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ ان واقعات اور بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث پائے گئے۔
بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی، یا تو وہ ہتھیار ڈالیں ورنہ ہم ان سے لڑیں گے۔
