ایران سے جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز پر لڑائی نہیں چاہتے: پیٹ ہیگستھ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے منگل کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران سے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے امریکی کارروائی عارضی ہے، واشنگٹن لڑائی نہیں چاہتا اور تہران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ آرلنگٹن، ورجینیا میں واقع پینٹاگون میں مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگستھ نے کہا: ’جنگ بندی ختم نہیں ہوئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم نے کہا تھا کہ ہم دفاع کریں گے اور بھرپور انداز میں دفاع کریں گے، اور ہم نے یقیناً ایسا کیا ہے۔ ایران یہ جانتا ہے اور آخرکار صدر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا کوئی صورتِ حال جنگ بندی کی خلاف ورزی میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان نازک جنگ بندی منگل کو اس وقت ڈانواں ڈول نظر آئی، جب امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے خلیج میں فائرنگ کا تبادلہ کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت ایک کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کے تحت انہوں نے ایران سے اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کی، جس نے مؤثر طور پر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشرکہ جنگ شروع کرنے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔

پریس بریفنگ کے دوران وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا: ’پروجیکٹ فریڈم دفاعی نوعیت کا حامل ہے، دائرہ کار میں محدود اور مدت کے لحاظ سے عارضی ہے اور اس کا ایک ہی مشن ہے کہ ایرانی جارحیت سے بے ضرر تجارتی جہاز رانی کا تحفظ۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’امریکی افواج کو ایرانی پانیوں یا فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ضروری نہیں ہے۔ ہم لڑائی نہیں چاہتے۔‘

اے ایف پی کے مطابق ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جہاز رانی پر کسی بھی ایرانی حملے کا ’تباہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔

بقول پیٹ ہیگسیتھ: ’ہم لڑائی نہیں چاہتے۔ لیکن ایران کو یہ اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ وہ بے گناہ ممالک اور ان کے سامان کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے روک دے۔۔۔اگر آپ امریکی فوجیوں یا بے ضرر تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو زبردست اور تباہ کن امریکی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *