پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو صارفین، ہوٹل مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
صارفین کے مطابق ایک ہفتہ قبل تقریباً چار ہزار روپے میں ملنے والا سیلنڈر اب چھ سے سات ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایل پی جی انڈسٹری سے وابستہ افراد نے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گیس کی فراہمی اور حکومتی نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ایل پی جی استعمال کرنے والی گھریلو خاتون صائمہ بی بی کے مطابق ایک ہفتے کے دوران سیلنڈر کی قیمت میں اضافے نے عام آدمی کے لیے کھانا پکانے کے اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ تقریباً چار ہزار روپے میں سیلنڈر بھرواتی تھیں لیکن اب اسی کے لیے چھ سے سات ہزار روپے تک ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ’غریب عوام کیا کریں؟ ایل پی جی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔‘
ایل پی جی گیس کے ایک ڈسٹری بیوٹر مجید اللہ نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے سے ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ کمپنی سے رابطہ کرنے پر انہیں گیس دستیاب نہ ہونے کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
مجید اللہ کے مطابق 11 کلو 800 گرام گنجائش والے سیلنڈر کی قیمت ایک ہفتہ قبل چار ہزار سے 4,200 روپے کے درمیان تھی، جو حالیہ بحران کے دوران بڑھ کر سات ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ ان کے بقول اب اس کی قیمت تقریباً 5,500 روپے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے ان کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اب کام پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی بھی نہیں رہا۔
ان کے مطابق 15 کلو کے سیلنڈر کی قیمت آٹھ ہزار سے 8,200 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ کمرشل سیلنڈر تقریباً 25 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
مجید اللہ کا کہنا تھا کہ گیس مہنگی ہونے کے باعث ہوٹل مالکان بھی مشکلات کا شکار ہیں اور بعض نے اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ نجی پلانٹ مالکان اور متعلقہ اداروں کے معاملات کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بھی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو مقامی گیس تقریباً 235 سے 240 روپے فی کلو میں ملتی ہے جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت تقریباً 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
عرفان کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ مقامی گیس کے شعبے پر پانچ سے چھ افراد کا کنٹرول ہے اور اس حوالے سے بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ سرحد بند ہونے کے فوراً بعد ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا دی گئیں حالانکہ ان کے مطابق سرحد کے راستے آنے والی گیس کو پاکستان پہنچنے میں تقریباً آٹھ دن لگتے ہیں۔
انہوں نے نجی درآمد کنندگان پر من مانے نرخ مقرر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مقامی گیس کو اپنی تحویل میں لے، درآمدی اور مقامی گیس کی فراہمی کو یکجا کرے اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے سرکاری ٹرمینل کو استعمال میں لائے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
عرفان کھوکھر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مقامی گیس کی پیداوار کا کچھ حصہ مختلف افراد کو فراہم کیا گیا ہے اور بعض معاملات میں عدالتی حکم امتناع کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
گذشتہ دنوں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت میں رکاوٹ کو ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاجروں کے مطابق گبد۔رمدان اور تفتان کی سرحدی گزرگاہیں 17 اکتوبر کو بند کر دی گئی تھیں، تاہم اس اقدام کی پاکستان اور ایران نے الگ الگ وجہ بتائی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی صوبے بلوچستان کی حکومت نے کہا کہ سکیورٹی خدشات دور کرنے اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ان گزرگاہوں کو عارضی طور پر بند کیا گیا جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے اس کی وجہ تکنیکی مسائل کو قرار دیا۔
پاکستان نے گبد رمدان گزرگاہ ہفتے کو دوبارہ کھول دی تھی، جس سے دوطرفہ تجارت بحال ہو گئی اور ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی ضروری کھیپ لے جانے والے پھنسے ہوئے ٹرکوں کو نقل و حرکت کی اجازت مل گئی۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے ہفتے کی صبح تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے کی تصدیق کی۔
پاکستان کے لیے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو واضح کیا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سمیت دیگر اشیا کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں اور ایران کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔
رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے سرحدیں بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی یہ کسی فریق کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا ایران سے درآمدات کے لیے پاکستان کے ای فارم طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث ایسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ تاجر عملاً ایران سے پاکستان کے لیے سامان روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شمس الحق نے بتایا کہ صرف گبد۔رمدان گزرگاہ کے ذریعے روزانہ چار ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی پاکستان پہنچتی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا، جس میں پاکستانی برآمدات تقریباً 684 ملین ڈالر تھیں
