جاپان: رہائشی علاقے میں نظر آنے والا سیاہ ریچھ بالآخر پکڑا گیا

جاپان میں ایک سیاہ ریچھ بالآخر پکڑ لیا گیا، جس کے ساتھ ہی ایک روز سے جاری تلاش کا عمل ختم ہو گیا۔ ریچھ کے پہلی بار دیکھے جانے کے بعد تمام سکول بند کر دیے گئے تھے۔

ٹوچیگی پریفیکچر کے شہر اُتسونومیا، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد رہتے ہیں اور جو ٹوکیو سے لگ بھگ 100 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، کو اس وقت ہائی الرٹ پر رکھا گیا جب ریچھ کو رہائشی علاقے میں دیکھا گیا۔ ملک بھر میں ریچھوں کے حملوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں۔

جاپانی حکام نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے شہر کے تمام 94 پرائمری اور مڈل سکولز بند کر دیے، جبکہ اُتسونومیا یونیورسٹی نے بھی اپنی تمام کلاسز منسوخ کر دیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کی دوپہر کو جب ریچھ ایک بار پھر رہائشی علاقے میں نظر آیا تو پولیس اور دیگر گاڑیوں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک پولیس اہلکار موقع پر موجود رہے، کچھ کے پاس لمبی لاٹھیاں تھیں اور کچھ دھاتی ڈھالیں لیے ہوئے تھے، جبکہ قومی ٹی وی چینلز نے ہیلی کاپٹرز سے براہِ راست مناظر نشر کیے۔

تقریباً 100 کلوگرام وزنی ریچھ پر تین بے ہوش کرنے والے ڈارٹس فائر کیے گئے، جن میں سے ایک نشانے پر لگا اور ریچھ کو قابو میں کر لیا گیا۔ بعد ازاں اسے ایک پنجرے میں ڈال کر ٹرک کے ذریعے منتقل کر دیا گیا۔ ایک اہلکار کے مطابق ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ریچھ کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع فوکوشیما پریفیکچر کے شہر ایواکی میں بھی منگل کو تین سکولوں کی کلاسز معطل کر دی گئیں، جہاں ایک دن پہلے ریچھ دیکھے جانے کی اطلاع ملی تھی۔

گذشتہ ہفتے فوکوشیما شہر میں ریچھ کے حملے میں کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ایک واقعے کی سکیورٹی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ریچھ ایک شخص کا پیچھا کرتے ہوئے اسے زمین پر گرا دیتا ہے۔

جاپان میں ریچھوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، یہاں تک کہ شہری علاقوں میں بھی، جس کے بعد حکومت نے رواں سال ایسے واقعات کم کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ مالی سال 2025 میں ملک بھر میں 238 افراد ریچھوں کے حملوں کا شکار ہوئے، جن میں 13 اموات شامل ہیں، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

اگرچہ ایشیائی سیاہ ریچھ کو عالمی سطح پر ایک کمزور نسل قرار دیا جاتا ہے، لیکن جاپان میں ان کی تعداد 2012 کے بعد تقریباً تین گنا بڑھ گئی ہے، جس کی ایک وجہ شکار میں کمی بھی بتائی جاتی ہے۔ جاپانی حکومت نے مارچ میں ریچھوں کی مجموعی تعداد تقریباً 57,800 بتائی تھی۔

حکام نے ریچھوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں منظم طریقے سے انہیں کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے پانچ سال میں بلدیاتی سطح پر ریچھوں کو کنٹرول کرنے والے عملے کی تعداد بڑھا کر 2,500 تک کی جائے گی، جبکہ ریچھ پکڑنے کے جال بھی دوگنا کر دیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق ریچھوں کی انسانی آبادی کے قریب آمد کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس کے باعث قدرتی خوراک جیسے بلوط اور بیچ نٹس کم ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں سے آبادی کی منتقلی اور بنجر ہوتی زرعی زمین بھی اس مسئلے میں اضافہ کر رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *