افغانستان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان نے ملک کے اندر نئے فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔
دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ تازہ حملوں میں خوست، کنڑ اور پکتیکا کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک بزرگ شخص ہلاک ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ حملے اس واقعے کے ایک دن بعد کیے گئے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں نے خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقے حسن خیل میں ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق اس جھڑپ میں فیڈرل کانسٹیبلری کے چھ اہلکار جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔
مقامی حکام نے منگل کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے آٹھ کو مار ڈالا اور چوکی پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں پشاور میں جان سے جانے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
بیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ’دہشت گردی‘ کے خلاف اپنی جنگ میں متحد ہے اور امن و سکیورٹی کو خطرہ بننے والے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مہلک جھڑپیں رواں برس فروری کے آخر سے جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار کارروائی کی تھی۔
فروری میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد وہ افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے۔
افغانستان کا کہنا ہے کہ مارچ میں پاکستانی فضائی حملے کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر ہوئے، جس میں 400 سے زیادہ افراد جان سے گئے، تاہم اموات کی اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، جو افغان طالبان سے الگ مگر اس کی حامی تنظیم ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
