پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ تولدے گیبریماریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے دو عہدے داروں نے ہفتے کو اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سابق قومی فضائی کمپنی اپنے آپریشنز کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تولدے گیبریماریم کی قیادت میں ایتھوپین ایئرلائنز افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بن گئی تھی اور ادیس ابابا میں اپنے ٹرانزٹ مرکز کے ذریعے براعظم کے مختلف شہروں کو آپس میں منسلک کیا تھا۔
ان کی تقرری سے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم کی پی آئی اے کی بحالی کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
دسمبر میں نجکاری سے قبل پی آئی اے کئی سالوں میں 2.8 ارب ڈالر سے زائد کے خسارے کا شکار ہو چکی تھی۔
عرب نیوز نے عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب سے رابطہ کیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
البتہ پی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ تولدے گیبریماریم کو ایئرلائن کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’پی آئی اے اس وقت تک ان کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کرے گی جب تک تمام سکیورٹی کلیئرنس مکمل نہیں ہو جاتیں۔‘
پی آئی اے کے ایک بڑے شیئر ہولڈر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ‘انہیں ملازمت دے دی گئی ہے۔ وہ انتہائی قابل شخصیت ہیں اور کئی اداروں کی کامیاب بحالی میں کردار ادا کر چکے ہیں۔‘
یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے ایک ہفتے قبل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
نجکاری اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کو تمام شرائط پوری ہونے کے بعد کی گئی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پہلے مرحلے کے تحت کنسورشیم نے حکومت کو 10 ارب روپے (3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) بطور فروخت رقم ادا کیے جبکہ 80 ارب روپے (28 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) نئی سرمایہ کاری کے طور پر پی آئی اے میں شامل کیے گئے۔
اس سرمایہ کاری کا مقصد ایئرلائن کی مالی پوزیشن مضبوط بنانا، بیڑے میں توسیع اور جدیدیت لانا، روٹس کے نیٹ ورک کو وسعت دینا اور آپریشنل کارکردگی و صارفین کی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔
23 دسمبر کو ہونے والے بولی کے عمل کے نتیجے میں کنسورشیم نے مجموعی طور پر 180 ارب روپے (64 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق اس میں سے 55 ارب روپے (19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) حکومتِ پاکستان کو پی آئی اے کی خریداری کے عوض ادا کیے جائیں گے، جبکہ 125 ارب روپے (44 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) ایئرلائن میں سرمایہ کاری کی صورت میں شامل کیے جائیں گے تاکہ قومی ایئرلائن کی طویل مدتی اصلاحات اور بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
معاہدے کے مطابق نجکاری کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کے 12 ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت کنسورشیم مزید 45 ارب روپے (16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) پی آئی اے میں سرمایہ کاری کرے گا۔
کنسورشیم نے معاہدے کے تحت کال آپشن استعمال کرتے ہوئے پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص خریدنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے، جس کے لیے حکومت کو مزید 45 ارب روپے (16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) ادا کیے جائیں گے۔
