اگر ٹرمپ نے فتح کا اعلان کیا تو ایرانی ردعمل کیا ہوگا؟ امریکی خفیہ اداروں کا جائزہ

دو امریکی حکام اور معاملے سے باخبر ایک شخص نے بتایا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو ماہ جاری رہنے والی جنگ میں یک طرفہ طور پر فتح کا اعلان کر دیں تو ایران کا کیا ردعمل ہوگا؟

ایران کے خلاف جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور جنگ وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے۔

انٹیلی جنس ادارے اعلیٰ انتظامی حکام کی درخواست پر دیگر امور کے ساتھ ایران کے ردعمل سے متعلق سوال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کام کا مقصد ٹرمپ کے ممکنہ طور پر ایک ایسے تنازعے سے پیچھے ہٹنے کے اثرات کو سمجھنا ہے جس کے بارے میں کچھ حکام اور مشیروں کو خدشہ ہے کہ یہ اس سال کے آخر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

اگرچہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ٹرمپ بآسانی فوجی کارروائیوں میں دوبارہ تیزی لا سکتے ہیں، لیکن کشیدگی میں فوری کمی صدر پر سیاسی دباؤ کو کم کر سکتی ہے، حالاں کہ اس سے ایران کے حوصلے بھی بلند ہو سکتے ہیں جو بالآخر اپنے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے اور خطے میں امریکی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ذرائع نے حساس انٹیلی جنس معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ گفتگو کی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی اپنا کام کب مکمل کرے گی؟ لیکن اس نے اس سے قبل بھی امریکہ کی جانب سے فتح کے اعلان پر ایرانی رہنماؤں کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ فروری میں بمباری کی ابتدائی مہم کے بعد کے دنوں میں، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ اگر ٹرمپ فتح کا اعلان کر دیں اور امریکہ خطے سے اپنی افواج کم کر دے، تو ایران غالباً اسے اپنی جیت سمجھے گا۔

ذریعے کے مطابق، اگر اس کی بجائے ٹرمپ یہ کہیں کہ امریکہ جیت گیا ہے لیکن وہ فوج کی بھاری نفری برقرار رکھیں، تو ایران غالباً اسے مذاکرات کی ایک چال سمجھے گا، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے جنگ کا خاتمہ ہو۔

اس خبر کی اشاعت کے بعد ایجنسی کے دفتر برائے عوامی امور کی ڈائریکٹر لز لائنز نے ایک بیان میں کہا، ’سی آئی اے انٹیلی جنس کمیونٹی کے اس رپورٹ کردہ جائزے سے واقف نہیں ہے۔‘ سی آئی اے نے ایران پر اپنے موجودہ کام کے حوالے سے روئٹرز کے مخصوص سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے بھی اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ امریکہ اب بھی مذاکرات کے لیے ایرانیوں سے رابطے میں ہے اور وہ ’کوئی برا معاہدہ کرنے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) صرف ایسے معاہدے کا حصہ بنیں گے جس میں امریکی قومی سکیورٹی مقدم ہو، اور انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بڑی سیاسی قیمت

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ امریکیوں میں انتہائی غیر مقبول ہے۔ گذشتہ ہفتہ جاری ہونے والے رائٹرزاور اپسوس پول میں جواب دینے والے صرف 26 فیصد افراد نے کہا کہ فوجی مہم ان اخراجات کے قابل تھی، اور صرف 25 فیصد نے کہا کہ اس نے امریکہ کو مزید محفوظ بنایا ہے۔

حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کے مذاکرات سے باخبر تین افراد نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انہیں اور ان کی پارٹی کو چکانی پڑنے والی سیاسی قیمت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

فوجی آپشنز بدستور موجود

انتظامیہ کے معاملات سے باخبر ایک اور شخص کے مطابق، مختلف فوجی آپشنز باقاعدہ طور پر اب بھی زیر غور ہیں، جن میں ایران کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں پر دوبارہ فضائی حملے بھی شامل ہیں۔

تاہم ایک امریکی اہلکار اور بات چیت سے باخبر ایک اور شخص نے کہا کہ ان میں سے سب سے بڑے آپشنز، جیسے کہ ایرانی سرزمین پر زمینی حملہ، کا امکان اب چند ہفتے پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے صدر پر جنگ ختم کرنے کے مقامی دباؤ کو ’بہت زیادہ‘ قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *