اپوزیشن اتحاد: ملکی سیاست میں مفاہمت کی سیاست پروان چڑھے گی یا مزاحمت کا امکان؟

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کے اعلان پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں آئندہ مفاہمت کی سیاست پروان چڑھنے کا امکان ہے یا مزاحمتی سیاست کی روایت برقرار رہے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں ہائبرڈ نظام میں مزاحمتی سیاست کی بجائے مذاکراتی عمل سے سیاسی استحکام کا زیادہ امکان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں آمریت ہو یا جمہوری حکومت، ہمیشہ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبات تسلیم کرانے یا سیاسی فائدے کے لیے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک اسمبلی سے منتخب کبھی کسی وزیر اعظم نے مقررہ مدت پانچ سال پوری نہیں کی۔ اب اگرچہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت قائم ہوئی ہے، لیکن تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف سمیت جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتیں اپوزیشن میں ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

اسمبلیوں میں اپوزیشن کی نشستوں کی تعداد بھی مؤثر اپوزیشن کے لیے کافی ہے۔ لیکن ابھی تک کسی بھی صوبے میں فعال اپوزیشن دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کی قیادت اور رہنما جیلوں میں بھی ہیں۔

لیکن کوششوں کے باوجود ان کی مزاحمتی سیاست بھی ابھی تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں سے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملاقات کے بعد متحدہ اپوزیشن کے قیام اور جدوجہد کا آغاز پارلیمنٹ سے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جس کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ اپوزیشن اتحاد کتنا فعال ہو سکتا ہے اور اس سے مفاہمتی سیاست کی امید ہے یا مزاحمت کا راستہ اپنایا جائے گا؟

اپوزیشن اتحاد کا مقصد

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اس بار کافی مختلف ہے کیونکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے وفاق میں حکومت قائم ہے۔

جبکہ کے پی کے میں پی ٹی آئی بھی برسراقتدار ہے۔ لیکن وفاق میں اپوزیشن جماعتیں اتحاد بنانے پر متفق ہیں جس کے مقاصد تو سیاسی ہیں، لیکن ہر جماعت اپنا فائدہ زیادہ چاہتی ہے۔ اپوزیشن اس اتحاد سے کیا مقاصد حاصل کر سکے گی، یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔

’پی ٹی آئی کے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے اور مولانا کے پی ٹی آئی کے حوالے سے تحفظات سنجیدہ ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی اسمبلیوں سے استعفے کی بات کرتی رہی ہے مگر مولانا اس سیاسی غلطی کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان کو پہلے بڑی جماعتوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں، اب ایک اور بڑی جماعت سے غیر مشروط معاہدہ بہت مشکل ہو گا۔ کیونکہ مولانا یا تو اپوزیشن میں پی ڈی ایم کی طرح مرکزی عہدہ لینا چاہیں گے یا کے پی کے میں پی ٹی آئی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ مانگیں گے۔‘

تجزیہ کار محمل سرفراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوری نظام میں مضبوط اپوزیشن کا کردار ناگزیر ہوتا ہے۔ مگر ہماری اپوزیشن کے پاس اچھی خاصی تعداد کے باوجود کسی اسمبلی میں مؤثر کردار دکھائی نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت سیاسی خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے مرضی کے فیصلے کر رہی ہے۔ لہٰذا اپوزیشن اتحاد سے ایک پریشر قائم ہو گا کیونکہ ہائبرڈ نظام میں متحرک اور فعال اپوزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔

’اپوزیشن سے بلاول کی ملاقات بھی ایک اہم پہلو ہے کیونکہ انہوں نے ملاقات کے بعد اہم بات کی کہ انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن میں چاہے اڑھائی سال کا وقت باقی ہے لیکن اس عرصے میں اپوزیشن اور حکومت انتخابی اصلاحات کرنے کی طرف آ جائیں تو بہتری کا امکان ہے۔ لہٰذا یہ قوی امکان ہے کہ اپوزیشن اتحاد بھی اس مسئلے پر سنجیدگی سے کوشش کرے گا۔‘

حزب اختلاف کے ممکنہ اثرات

محمل کے بقول: ’اپوزیشن اتحاد یقینی طور پر پارلیمنٹ کے اندر اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو لیکن پی ٹی آئی کی حمایت سے شاید اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا جائے گا۔ کیونکہ عمران خان محمود اچکزئی کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ان کے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔

جہاں تک مزاحمتی سیاست کا تعلق ہے تو وہ پی ٹی آئی کے بغیر ممکن نہیں اور تحریک انصاف نے دو بار کر کے دیکھ لی، جس کے انہیں فائدے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑا۔ لہٰذا اب اپوزیشن اتحاد بھی مذاکرات کے ذریعے اور ایوان میں کردار سے ہی مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گا۔‘

بقول سلمان غنی: ’مولانا فضل الرحمن کا ہمیشہ اپوزیشن میں مرکزی کردار رہا ہے۔ جیسے پی ڈی ایم بنی تو اس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے سربراہ مولانا تھے۔ جب پی ڈی ایم حکومت بنی تو مولانا اس کا بھی حصہ رہے۔‘

اس کے علاوہ حکومت میں بھی ان کا مؤثر کردار رہا۔ لیکن 2024 کے انتخابات میں اگرچہ انہیں وہ پذیرائی نہیں ملی، لیکن ان کے حکمران جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے اسی طرح رہے۔ جب بھی ترامیم کا معاملہ ہو تو مولانا کو وہی اہمیت حاصل ہوئی۔‘

’اس تناظر میں بھی اپوزیشن اتحاد میں سب سے مؤثر آواز مولانا کی ہی ہو گی۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جو ہمیشہ مذاکراتی عمل سے ہی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اگر اپوزیشن اتحاد سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا لیکن راستہ مزاحمت کی بجائے مفاہمت کا ہی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *