انصاف ہوا یا انصاف کا قتل؟

انتقام فوری اطمینان دے سکتا ہے، لیکن انصاف ثبوت، شفافیت، قانونی کارروائی اور جواب دہی کا نام ہے۔

رواں ماہ پیش آنے والے دو واقعات نے ایک بار پھر ہمارے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ ایک طرف لائبہ اعجاز کی فراڈ سے جڑی المناک موت کا معاملہ ہے اور دوسری طرف ملتان میں ایک یتیم نوجوان کو گاڑی تلے کچل کر قتل کیے جانے کا واقعہ۔

دونوں واقعات نے لوگوں میں غم، غصہ اور بے بسی پیدا کی۔ ایسے واقعات کے بعد فطری طور پر مطالبہ یہ ہی ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف ملے، ذمہ دار شخص قانون کے کٹہرے میں آئے اور جرم ثابت ہونے پر اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

لیکن ان دونوں مقدمات میں ایک غیر معمولی مماثلت نے ایک اور سوال کھڑا کر دیا ہے۔

لائبہ اعجاز کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ میں مارا گیا جبکہ ملتان میں نوجوان کی موت کے مقدمے کا ملزم توقیر نذیر پولیس کے مطابق حراست سے فرار ہونے کے بعد بہاولپور میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ملزمان کی موت کے ساتھ ہی انصاف بھی ہو گیا؟

کیا متاثرہ خاندانوں کو معلوم ہو گیا کہ ان کے پیاروں کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا؟ کیا تمام ذمہ داروں کا تعین ہو گیا؟ کیا واقعات کی ہر کڑی سامنے آ گئی؟ یا ملزمان کی موت کے ساتھ سچ تک پہنچنے کے کچھ راستے بھی بند ہو گئے؟

لائبہ اعجاز اب اس دنیا میں نہیں۔ ان کی موت سے جڑے الزامات اور فراڈ کی مکمل حقیقت جاننا ضروری ہے۔ اگر کسی نے انہیں دھوکا دیا، ان کے ساتھ ناانصافی کی یا انہیں ایسے کرب سے گزارا جس نے ان کی زندگی چھین لی تو اس کا تعین شواہد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

لائبہ کے لیے انصاف کا مطلب صرف کسی ایک شخص کو ملزم ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ ان کے ساتھ اصل میں کیا ہوا، کون ذمہ دار تھا اور کیا اس معاملے میں کوئی دوسرا کردار بھی موجود تھا۔

محمد نعمان کی موت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ اسے برآمدگی کے لیے لے جاتے ہوئے دو موٹر سائیکلوں پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی اور اسے چھڑوانے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ زخمی ہوا اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور اس کے ساتھی تھے۔

اگر یہ مؤقف درست ہے تو اس سے بھی کئی اہم سوال جنم لیتے ہیں۔ وہ لوگ کون تھے جو اسے چھڑوانے آئے؟ ان کی شناخت ہوئی یا نہیں؟ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کس حد تک ہوئیں؟ اور سب سے بڑھ کر، لائبہ کے مقدمے میں موجود شواہد، مالی معاملات اور ممکنہ دیگر کرداروں کی تفتیش اب کیسے آگے بڑھے گی؟

ایک ملزم کی موت سے مقدمے کی تمام حقیقتیں دفن نہیں ہونی چاہیے۔ لائبہ کے اہل خانہ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حقیقت کیا تھی اور اگر کوئی دوسرا شخص بھی ذمہ دار تھا تو اسے قانون کے سامنے لانے کے لیے کیا کیا گیا۔

دوسری طرف ملتان میں ایک یتیم نوجوان کی موت محض ایک خبر نہیں تھی۔ یہ ایک خاندان کے سہارے کا خاتمہ اور پورے معاشرے کے سامنے ایک تکلیف دہ سوال ہے۔ ایسے معاملے میں توقع یہ ہی ہوتی ہے کہ ملزم گرفتار ہوگا، مقدمہ چلے گا، شواہد عدالت کے سامنے رکھے جائیں گے اور جرم ثابت ہونے پر سزا دی جائے گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن پولیس کے مطابق ملزم توقیر نذیر منگل کی شب سی سی ڈی ملتان کی حراست سے فرار ہو گیا۔ بعد ازاں بہاولپور میں سی سی ڈی کی ٹیم نے دو موٹر سائیکل سوار مشکوک افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص مارا گیا، جس کی شناخت پولیس نے توقیر نذیر کے نام سے کی۔

یہاں بھی سوال صرف یہ نہیں کہ ملزم کیسے مارا گیا۔ اس سے پہلے کا سوال شاید زیادہ اہم ہے: وہ حراست سے فرار کیسے ہوا؟ اس کی نگرانی کس کی ذمہ داری تھی؟ فرار میں کسی کی غفلت تھی تو اس کا تعین کیسے ہوگا؟ اور بہاولپور میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے حالات کی آزادانہ تصدیق کس طرح کی جائے گی؟

اگر پولیس پر فائرنگ ہوئی تو شواہد سے یہ حقیقت سامنے آنی چاہیے۔ اگر ملزم واقعی حراست سے فرار ہوا تو اس فرار کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔ اور اگر کسی مرحلے پر کوئی غیر قانونی اقدام ہوا تو اس کی تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔

یہ سوال اٹھانا پولیس کو مجرم قرار دینا نہیں۔ یہ قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ کسی ملزم کی پولیس مقابلے میں موت بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ لیکن اسی طرح پولیس کا سرکاری مؤقف بھی آزادانہ جانچ کے بغیر حتمی حقیقت نہیں بن جاتا۔ دونوں واقعات مختلف ہیں اور دونوں کی حقیقت کا فیصلہ قیاس، جذبات یا سوشل میڈیا کے ردعمل سے نہیں بلکہ شواہد سے ہونا چاہیے۔

یہیں انصاف اور انتقام کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔

انتقام فوری اطمینان دے سکتا ہے۔ جس شخص کو لوگ مجرم سمجھ رہے ہوں، اس کی موت پر کچھ لوگوں کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ حساب برابر ہوگیا۔ لیکن انصاف حساب برابر کرنے کا نام نہیں۔

انصاف کا مطلب ہے کہ سچ سامنے آئے، الزام ثابت ہو، ذمہ دار کا تعین ہو، اسے اپنے دفاع کا حق ملے اور پھر قانون فیصلہ کرے۔ یہ ہی عمل ایک مہذب معاشرے میں مظلوم اور ملزم دونوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

کسی ملزم کی موت پر وقتی غصہ شاید کم ہو جائے، لیکن اس سے مقدمے کے تمام سوالات کے جواب نہیں ملتے۔ نہ نظام کی خامیاں دور ہوتی ہیں اور نہ یہ ضمانت ملتی ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا۔

ہمارے ہاں کسی دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد چند دن شدید غم و غصہ رہتا ہے۔ گرفتاریاں ہوتی ہیں، بیانات سامنے آتے ہیں، سوشل میڈیا پر فیصلے سنائے جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ خبر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

لیکن متاثرہ خاندان کے لیے کہانی وہاں ختم نہیں ہوتی جہاں خبر ختم ہو جاتی ہے۔

ان کے سوالات باقی رہتے ہیں۔ ان کا دکھ باقی رہتا ہے۔ اور یہ جاننے کا حق بھی باقی رہتا ہے کہ ان کے پیارے کے ساتھ آخر ہوا کیا تھا۔

لائبہ کے معاملے میں اگر مرکزی ملزم کی موت کے ساتھ تفتیش بھی ختم ہو جاتی ہے تو یہ انصاف کی تکمیل نہیں ہوگی۔ اسی طرح ملتان کے نوجوان کے مقدمے میں اگر ملزم کی موت کے بعد اس کے حراست سے فرار اور مبینہ مقابلے کے حالات پر سوال اٹھانا چھوڑ دیا جاتا ہے تو معاملہ ختم ضرور ہو سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ انصاف بھی ہو گیا ہو۔

انصاف کا مقصد صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، سچ کو سامنے لانا بھی ہے۔

اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دونوں ملزمان مارے گئے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان واقعات کے بعد بھی سچ جاننے، ذمہ داری طے کرنے اور قانون کے مطابق جواب دہی کا عمل جاری رہے گا؟

اگر شواہد بتاتے ہیں کہ یہ اموات قانون کے مطابق پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ تھیں تو وہ شواہد سامنے آنے چاہییں۔ اور اگر کسی مرحلے پر قانون شکنی ہوئی تو اس کی جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔

کیونکہ جس معاشرے میں موت کو انصاف کا متبادل سمجھ لیا جائے، وہاں ایک دن انصاف اور انتقام کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔

مصنف انڈپینڈنٹ اردو سے منسلک سینئیر صحافی ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائہ پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *