ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی چینل کی رپورٹ گمراہ کن اور سنسنی خیز: پاکستان

پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ نے منگل کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نوعیت کی قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے بظاہر خطے میں استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔‘

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ’پاکستان نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو ممکنہ طور پر امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑے رکھنے کی اجازت دی۔‘

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ’ایران نے کچھ سویلین طیارے ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی پارک کیے۔‘

امریکی حکام، جنہوں نے قومی سلامتی کے معاملات پر بات کرنے کے لیے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد ’تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس بیس نور خان بھیجے۔ یہ ایک نہایت اہم فوجی تنصیب ہے جو راولپنڈی کے گیریژن شہر کے قریب واقع ہے۔‘

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان فوجی سازوسامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک RC-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ C-130 Hercules ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا جاسوسی اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے والا ماڈل ہے۔‘

تاہم پاکستان نے منگل کو سی بی ایس کی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران، ایران اور امریکہ کے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے تاکہ مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی سٹاف کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے جن میں سے کچھ طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی ادوار کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطحی سفارتی روابط جاری رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کو موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات کے تحت ممکن بنایا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’اس وقت پاکستان میں موجود ایرانی طیارے جنگ بندی کے دوران آئے تھے اور ان کا کسی عسکری ہنگامی صورت حال یا تحفظاتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے برعکس دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر عاری ہیں۔

’پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمہ دار سہولت کار کے طور پر مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کی ہے۔ اسی کردار کے مطابق، پاکستان نے جہاں ضرورت پڑی معمول کی انتظامی اور لاجسٹک سہولت فراہم کی، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل شفافیت اور مسلسل رابطہ بھی برقرار رکھا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *