امریکی مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی ابتدائی کامیابیاں، ٹرمپ کو بڑا دھچکا

امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں منگل کو ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز سے امریکی سینیٹ کی پہلی نشست سے چھین لی، جس سے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کی ان کی کوششوں کو تقویت ملی۔ یہ کامیابی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

میڈیا کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے مقبول سابق گورنر رائے کوپر نے شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی نشست کے لیے ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار کو شکست دے دی، جبکہ ابھرتے ہوئے ڈیموکریٹ رہنما جون اوسوف نے جارجیا میں سینیٹ کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔

ابتدائی کامیابیوں نے ڈیموکریٹس کی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی امیدوں کو بڑھا دیا ہے۔

ان الیکشنز کو ٹرمپ کے ہنگامہ خیز دو سالہ دور اقتدار پر عوامی رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بڑھتے ہوئے روز مرہ خراجات، ٹرمپ کے تجارتی تنازعات اور ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر عوامی غصے میں اضافے کے دوران ہونے والے انتخابات سے قبل سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے غیر مقبول ترین صدور میں سے ایک ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں انتخابی نتائج دیکھ رہے تھے، تاہم ان کے عوامی بیانات صرف سوشل میڈیا پر متعدد برہم پوسٹس تک محدود رہے، جن میں انہوں نے فاکس نیوز کی انتخابی کوریج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

فلوریڈا سے آنے والے نتائج نے ایوان نمائندگان کے لیے انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز کی کمزوری ظاہر کر دی، جہاں ڈیموکریٹس کی متعدد نشستوں پر کامیابی متوقع ہے۔ ان نشستوں کے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی ٹرمپ کی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی تھی۔

ایک نمایاں مثال میں ری پبلکن رکن کانگریس اینا پالینا لونا کو اپنے حلقے میں انتہائی معمولی برتری برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا تھا، حالانکہ 2024 میں ٹرمپ نے یہ حلقہ 13 پوائنٹس کے فرق سے جیتا تھا۔

سینیٹ میں اہم کامیابی

اگرچہ بڑے پیمانے پر پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس ری پبلکنز کو شکست دے کر ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیں گے، تاہم سینیٹ کا مقابلہ انتہائی سخت رہنے کا امکان ہے، جہاں ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔

69  سالہ کوپر نے شمالی کیرولائنا میں ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل واٹلی کو شکست دی۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں ٹرمپ اپنی تینوں صدارتی انتخابی مہمات میں کامیاب رہے تھے۔

اس نتیجے سے ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز کی سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی اکثریت ختم کرنے کی کوشش میں ایک اہم کامیابی ملی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوپر، جو دو مرتبہ گورنر رہ چکے ہیں اور سیاست میں تقریباً چار دہائیوں کے دوران کبھی کوئی انتخاب نہیں ہارے، 2008 کے بعد شمالی کیرولائنا سے سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ بن گئے ہیں۔

انہوں نے ٹرمپ کے پُرعزم حامی واٹلی کے مقابلے میں روزمرہ اخراجات کم کرنے کو اپنی انتخابی مہم کا اہم نکتہ بنایا۔ وہ ری پبلکن سینیٹر تھام ٹِلس کی جگہ لیں گے، جو اکثر صدر ٹرمپ سے اختلاف کرتے رہے ہیں اور اب ریٹائر ہو رہے ہیں۔

جارجیا میں اوسوف نے ری پبلکن امیدوار مائیک کولنز کو شکست دے کر ڈیموکریٹس کی نشست برقرار رکھی، جسے ری پبلکنز حاصل کرنے کی امید کر رہے تھے۔

39 سالہ سینیٹر کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے علاوہ 36 ریاستوں کی گورنر شپ کے لیے بھی مقابلہ ہوا۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں مزید تین نشستیں اور سینیٹ میں مجموعی طور پر چار نشستیں حاصل کرنا ضروری تھیں۔

ٹرمپ کے لیے نتائج

ان انتخابی نتائج کے ٹرمپ کے لیے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھونے کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ان کی انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر سکتے ہیں، جن میں ایران جنگ، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور مبینہ بدعنوانی کے معاملات شامل ہیں۔

ڈیموکریٹس کے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں وہ عدالتی عہدوں اور حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر ٹرمپ کی نامزدگیوں کو بھی روک سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کو اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے محصولات، امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور ایران کے خلاف فوجی مہم کی تعریف کی تھی۔

80  سالہ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا: ’ہمیں امریکہ کو عظیم رکھنا ہے۔ ہم اب عظیم ہیں۔ دو سال پہلے ہماری حالت انتہائی خراب تھی۔‘

میامی میں ری پبلکن ووٹر 70 سالہ مارو ریسٹریپو نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ڈیموکریٹس ’بہت زیادہ سوشلسٹ‘ ہو گئے ہیں۔

اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ناموافق انتخابی نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس سے قبل 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *