امریکی بحریہ کا ایران کے خلاف پاکستانی علاقے کے استعمال کا دعویٰ ’من گھڑت پروپیگنڈا‘: پاکستان

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتے کو رات گئے سوشل میڈیا پر ان دعووں کو ’من گھڑت پروپیگنڈا‘ قرار دے کر مسترد کیا کہ جن میں الزام لگایا ہے کہ امریکی بحریہ اسلام آباد کی منظوری سے پاکستان کے علاقے سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

وزارت اطلاعات کا یہ بیان سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس کے ان دعووں کے بعد سامنے آیا کہ امریکی بحریہ پاکستان کی حدود سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے جاری جنگ کے دوران یہ دعوے کیے گئے۔

پاکستان نے بعض علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں کی قیادت کی تھی، جن کی مدد سے جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی امن معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم یہ معاہدہ کچھ ہی عرصے بعد ٹوٹ گیا اور دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس دوبارہ لڑائی شروع کر دی۔

وزارت اطلاعات نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پوسٹس ’الجھن، غلط فہمیاں اور افراتفری پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے‘ کا حصہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شمالی امریکہ سے چلنے والے ایک اکاؤنٹ نے یہ من گھڑت پروپیگنڈا کیا کہ امریکی بحریہ مبینہ طور پر پاکستان کی منظوری سے اس کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس دعوے کو مزید بھی پھیلایا گیا۔ یہ بے بنیاد ہے اور الجھن، غلط فہمیاں اور افراتفری پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے۔‘

یہ بیان پاکستان کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان میں ایران کی سرحد سے تجارت عارضی طور پر معطل کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ ایک ضلعی افسر نے ہفتے کو تجارت کی معطلی کی تصدیق کی، جب کہ تاجروں نے خبردار کیا کہ سرحد بند ہونے سے بھاری مالی نقصان ہوگا۔

چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے ایکس پر لکھا کہ ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کی سرحد سے تجارت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان ایران سرحد کی بندش ایک عارضی اقدام ہے۔ اس کا مقصد سرحدی انتظام بہتر بنانا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں مدد مل سکے۔ موثر اقدامات ہوتے ہی سرحد کھول دی جائے گی۔‘

سرحد کی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بلوچستان میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جمعے کو ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے کم از کم 20 پولیس کانسٹیبلوں کو اغوا کر لیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبے کے ایک سینیئر افسر نے ہفتے کو عرب نیوز کو بتایا کہ یہ اہلکار ضلع قلات کے ایک پولیس بھرتی مرکز سے واپس آ رہے تھے۔ مستونگ کے ایک پہاڑی علاقے میں مسلح افراد نے ان کی مسافر وین روک لی۔

اس سے ایک دن پہلے نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو اغوا کر لیا تھا۔ وہ کوئٹہ سے خاران کے راستے سفر کر رہے تھے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

ایران اور افغانستان سے متصل بلوچستان میں طویل عرصے سے علیحدگی پسندوں کی شورش جاری ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی سمیت مسلح گروہ اکثر سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *