انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کو کہا ہے کہ انڈیا آپریشن سندور 2.0 کی تیاری کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ حالیہ صورت حال کے باوجود فوجی تیاری برقرار ہے۔
انڈین آن لائن اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انہوں نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن سندور اب بھی جاری ہے‘۔ انہوں نے موجودہ صورت حال کو ’عارضی جنگ بندی” قرار دیا۔
جنرل دویدی نے براہِ راست پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ انڈین فوج مکمل طور پر تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو نیا آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ فضائیہ اور بحریہ بھی مکمل تیاری میں ہیں۔ ان کے مطابق تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی جنگی صورت حال کے لیے ہر وقت تیار رہا جا سکے۔
جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ’انڈین فوج اور تینوں مسلح افواج آپریشن سندور 2.0 کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہیں، اگر یہ ہوتا ہے۔ اس وقت ہم تینوں افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور آئندہ جنگی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، 24 گھنٹے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی میدان انتہائی شفاف ہو چکا ہے جہاں ہر حرکت مخالف کو نظر آ سکتی ہے، اس لیے فوج کو اپنی تعیناتی، کارروائی اور سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں فوجیوں اور شہریوں دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حالیہ برسوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ایک مہلک حملے کا الزام نئی دہلی نے بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جب کہ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
تاہم انڈیا نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ پنجاب کے کئی علاقوں میں حملے کرنا شروع کر دیے۔
انڈیا نے اس کارروئی کو آپریشن سندور کا نام دیا تھا۔ انڈیا کی اس کارروائی میں پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں درجنوں اموات ہوئی تھیں۔
جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے نام سے کارروائی کرتے ہوئے انڈین ایئربیسز، انڈیا کے جنگی طیاروں سمیت ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا تھا۔
پاکستان کی جانب سے ابتدا میں انڈیا کے سات طیارے گرائے جانے کا بیان سامنے آیا تھا تاہم بنیان المرصوص کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری تفصیلات میں یہ تعداد آٹھ بتائی گئی ہے۔
