اشرافیہ بلیو پاسپورٹ کیوں لینا چاہتی ہے؟

گلوبل پاسپورٹ رینکنگ میں پاکستان کا 91 واں نمبر ہے۔ آخری نمبروں پر صرف عراق، شام اور افغانستان جیسے ممالک آتے ہیں۔

گذشتہ سال برطانیہ نے سب سے زیادہ تعداد میں جس ملک کے شہریوں کو ویزہ دینے سے معذرت کی، ان میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، جس کے 44.4 فیصد درخواست گزاروں کو ویزہ نہیں ملا۔ اس کے مقابلے میں اسی عرصے میں انڈیا کے شہریوں کا یہ تناسب 6.7 اور بنگلہ دیش کا 28.2 فیصد رہا۔

گذشتہ ایک سال میں برطانیہ اور شنجن ممالک (Schengen countries) نے112,387 پاکستانیوں کو ویزہ نہیں دیا۔ اس مد میں پاکستانیوں نے جو ویزہ فیسیں دیں، وہ  ساڑھے چار ارب روپے بنتی ہیں۔ ویزہ فیسیں چونکہ ناقابل واپسی ہوتی ہیں اس لیے یہ پیسے ضائع ہو گئے۔

پاکستانیوں کو ویزہ اس لیے نہیں ملتا کیونکہ یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ یہ وہاں جا کر واپس نہیں آئیں گے۔ پاکستان  کے معاشی اور سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں۔

اراکینِ پارلیمان جنہیں عوام اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ان کے ملک کی حالت بہتر بنائیں تاکہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے اور اس کے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر ہو وہ اس کوشش میں تو کامیاب نہیں ہوتے البتہ وہ بظاہر اپنی حالت بہتر بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

اس کی ایک مثال گذشتہ دنوں سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا ایک ایسا بل پاس کرنا ہے، جو اگر ایوان سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کے تحت سینیٹ کے سابق اراکین کی بیویوں اور ان کے 28 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ 

اس سے پہلے یہ سہولت سینیٹ اور قومی اسمبلی کے حاضر سروس اراکین اور ان کے بیوی بچوں کو حاصل ہے۔

اس سے پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی گذشتہ دنوں ایک بل پاس ہو چکا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ اراکینِ صوبائی اسمبلی  کے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف موجودہ ممبرانِ صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے ان کے بیوی بچے اس سہولت میں شامل نہیں تھے۔

بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور کیوں اراکینِ پارلیمنٹ اپنے بیوی بچوں کے لیے اس کے حصول میں سرگرداں ہیں؟ وہ کون سے فوائد ہیں جو بلیو پاسپورٹ پر حاصل ہیں اور گرین پاسپورٹ پر نہیں ہیں؟ پاکستانی پاسپورٹ کے قواعد و ضوابط کے تحت  بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد کون ہیں؟

بلیو پاسپورٹ کی اہلیت کا معیار کیا ہے؟

اس وقت دنیا کے 55 ممالک ایسے ہیں جو بلیو اور ڈپلومیٹک پاکستانی پاسپورٹ پر ویزہ فری انٹری کی سہولت دیتے ہیں۔

بلیو پاسپورٹ کن کن لوگوں کو دیے جاتے ہیں؟ اس حوالے سے گزٹ آف پاکستان کے نوٹیفکیشن M-302/L-7646 کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، جو پاکستانی شہریوں کو بیرونِ ملک سفر کے لیے پاسپورٹ دینے کا مجاذ ادارہ ہے، کی ویب سائٹ کے مطابق بلیو پاسپورٹ ان شہریوں کو دیا جاتا ہے جو کہ سینیٹرز، ایم این ایز، صوبائی وزیر، سپریم اور ہائی کورٹ کے جج یا پھر وہ سرکاری نمائندے ہوں، جنہیں سرکاری کام کاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنا ہو۔

تاہم تین سال پہلے بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد میں حیران کن حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پاسپورٹ ضابطوں میں ترمیم کے لیے ایک ایس آر او 9 اگست 2023 کو جاری کیا گیا تھا جس کے تحت پاسپورٹ رولز2021 میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔

اب بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر اور وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ و گورنر، سینیٹ و قومی اسمبلی کے اراکین کے والدین، بیوی اور28 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچے، چاروں صوبائی اسمبلیاں بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر اسمبلیوں کے سپیکرز، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، کشمیر کی سپریم کورٹ کے جج، اپیلٹ کورٹ آف گلگت بلتستان، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر کی ہائی کورٹس کے جج، چیئرمین فیڈرل سروسز ٹربیونل، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران اور ان سب کے بیوی اور بچے بھی اب بلیو پاسپورٹ کے اہل ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی نہیں بلکہ گریڈ 22 کے سول ملازمین جن میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے  سیکرٹریز، مسلح افواج کے مساوی رینک کے افسران، ان کے والدین، بیوی اور بچے بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل قرار پا چکے ہیں۔ صوبائی، کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے مشیر بھی اپنے دورانیے تک اس پاسپورٹ کو رکھ سکتے ہیں۔

چیئرمین قومی احتساب بیورو اور ان کی بیوی، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور اراکین، ایڈیشنل وفاقی سیکرٹریز، سینیئر جوائنٹ سیکرٹریز، صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آل پاکستان سروسز کے گریڈ 21 کے افسران، سینیٹ و قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل سیکرٹریز، مسلح افواج کے اس رینک کے حامل افراد بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل ہیں۔

ریٹائرڈ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ان کے بیوی بچے بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ کے اہل ہیں۔

صدر پاکستان، چاروں صوبوں کے گورنر، صدر و وزیراعظم پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر گلگت بلتستان، وزیراعظم پاکستان کے سپیشل اسسٹنٹ و مشیر جن کا عہدہ وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے برابر ہو، وفاقی سیکرٹریز، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی وتینوں مسلح افواج کے سربراہان کے بیوی بچوں کو بھی اب بلیو پاسپورٹ کی سہولت میسر ہے۔

امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹرز، وفاقی جوائنٹ سیکرٹریز، صوبائی سیکرٹریز، جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے سیکرٹریز، جوائینٹ سیکرٹریز، سینیٹ و قومی اسمبلی گریڈ 20 کے افسران، سول ملازمین اور مسلح افواج کے وہ افسران جو پاکستان میں رہتے ہیں لیکن انہیں سرکاری کام کاج کی وجہ سے بیرون ملک جانا پڑے تو ان کی بیوی اور28  سال سے کم عمر بچے اور والدین بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل شمار ہو ں گے۔

سابق اراکین پارلیمنٹ جنہوں نے کم از کم اپنی ایک ٹرم پوری کی ہو، وہ اور ان کی بیویاں بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھ سکتے ہیں۔

سابق گورنر، سابق صدر کشمیر و گورنر گلگت بلتستان، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، کشمیر ہائی کورٹ و سپریم کورٹ، اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان و چیف کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان اور ان کی بیویاں بھی تاحیات اس پاسپورٹ کے اہل ہیں۔

اسی طرح گریڈ 20 کے وہ افسران جو کنٹریکٹ پر بیرون ملک سفر کرتے ہیں یا پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کے گریڈ 17 کے افسران جنہوں نے سرکاری دورے پر بیرون ملک جانا ہو تو انہیں بھی مخصوص وقت کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کے گورنر و ڈپٹی گورنر، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران، ارسا کے ممبران، گریڈ 17 سے 21 تک کے وہ سرکاری و مسلح افواج کے افسران جو سرکاری کورس کے سلسلے میں بیرونِ ملک جا رہے ہوں اور اس کا دورانیہ نو ماہ سے زیادہ ہو تو انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔

خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہان جو مستقل ہوں یا کنٹریکٹ پر لگائے گئے ہوں اور ان کا عہدہ گریڈ 20  کے مساوی ہو تو انہیں آفیشل ورک کے لیے بیرون ملک جانے پر بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا۔

پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے سربراہان جو صدر اور وزیراعظم کے ساتھ سرکاری دورے پر جا رہے ہوں وہ بھی بلیو پاسپورٹ لے سکتے ہیں۔ نادرا کے ملازمین جن کی تعیناتی بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں ہو، انہیں بھی یہ پاسپورٹ ملے گا۔ اس کے علاوہ کچھ دفاعی اداروں کے ملازمین کو بیرون ملک سفر جس میں انہیں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینی ہوں کو بھی یہ پاسپورٹ مل سکتا ہے۔

ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے اہل افراد کون سے ہیں؟

پاکستان کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا رنگ سرخ ہے۔ اس کے حامل افراد کو 57 ممالک ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو یہ پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو آمد پر ویزہ (آن آرائیول) کی سہولت بھی دیتے ہیں۔

صدر، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ سپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چاروں صوبائی گورنر، چاروں وزرائے اعلیٰ، حکومتِ پاکستان کے وفاقی وزرا و وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیر و خصوصی اسسٹنٹ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، وزارت داخلہ، کامرس، اکنامک افیئرز ڈویژن کے وفاقی سیکرٹریز، ڈی جی آئی ایس آئی، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور وہ تمام افراد جنہیں وزیراعظم نامزد کریں انہیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ ملے گا۔

یہ لوگ جب اپنا آفس چھوڑ دیں گے تب بھی یہ خود اور ان کی بیویاں ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے اہل شمار ہوں گے۔ جبکہ وزارتِ خارجہ بھی اپنے افسران کو خصوصی طور پر ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کروا سکتی ہے۔

وہ ممالک جن میں بلیو اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ والے بغیر ویزہ جا سکتے ہیں؟

حکومتِ پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے ہیں جن کے تحت یہ ممالک پاکستان کے ڈپلومیٹک اور بلیو پاسپورٹ کے حامل افراد  کو ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض ممالک صرف ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے حامل افراد کو یہ سہولت دیتے ہیں اور بعض ممالک دونوں طرح کے پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔

وہ ممالک جو پاکستان کے دونوں قسم کے پاسپورٹ پر ویزہ فری انٹری کی جازت دیتے ہیں ان میں ارجنٹائن، آسٹریا، آذربائیجان، بحرین، بنگلہ دیش، بیلا روس، بیلیزی، بوسنیا ہرزیگووینا، برونائی دارالسلام، سائپرس، چیک ریپبلک، کیوبا، ڈنمارک، فن لینڈ، جارجیا، ہنگری، انڈونیشیا، ایران، چین و ہانگ کانگ، قزاقستان، کویت، کرغیزستان، لاؤس،  ملائیشیا، مراکو، میکسیکو، مالٹا، ناروے، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سالوک ریپبلک، جنوبی کوریا، تیونس، ترکی، متحدہ عرب امارات، ویتنام  اور یمن شامل ہیں۔

وہ ممالک جو پاکستان کے صرف ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ہی ویزہ فری انٹری کی اجازت دیتے ہیں ان میں بیلجیئم، برازیل، مصر، جرمنی، اردن، لیکسمبرگ، نیدرلینڈ، فلپائن، پولینڈ، تھائی لینڈ، ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ مالدیپ اور نیپال صرف دو ممالک ہیں جن پر عام پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر بھی ویزہ فری جا سکتے ہیں۔

ہمسایہ ملک انڈیا کا پاسپورٹ انڈیکس میں 75 واں نمبر ہے اور اس کے شہری 56 ممالک میں ویزہ فری جا سکتے ہیں۔ دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ متحدہ عرب امارات کا ہے جس کے شہریوں کو 138 ممالک ویزہ فری انٹری کی سہولت دیتے ہیں۔ اس فہرست میں فرانس اور سپین دوسرے اور سنگاپور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ملائیشیا کا نمبر تیسرا ہے جس کے شہری 129 ممالک میں بغیر ویزہ کے جا سکتے ہیں۔

امریکہ کا نمبر نواں ہے جس کے شہری 121 ممالک میں بغیر ویزہ سفر کر سکتے ہیں۔ ترکی کا نمبر42  ہے اور اس کے شہری بھی 78 ممالک میں بغیر ویزہ جا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا نمبر47  ہے اور سعودی شہریوں کو بھی 63 ممالک میں بغیر ویزہ سفر کی اجازت ہے۔

پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ کا تعلق ایک تو براہ راست معاشی و سیاسی حالات سے ہوتا ہے اور دوسرا اس ملک کے دفترِ خارجہ کا بھی اس میں اہم کردار ہوتا ہے کہ وہ کن کن ممالک کے ساتھ دوطرفہ فری سفری سہولیات کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دفترِ خارجہ کوششیں کرے تو عام پاکستانی پاسپورٹ پر بھی زیادہ ممالک کی جانب سے فری ویزہ کی سہولت مل سکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *