پاکستان فضائیہ کے سینیئر افسر اتوار کو اسلام آباد میں ایک خاتون کو بچاتے ہوئے فائرنگ سے جان سے چلے گئے جبکہ ملزم موقعے سے فرار ہو گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سوار کو ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا۔
صورت حال کو مشکوک محسوس ہونے پر وہ واپس مڑے اور موٹرسائیکل کے قریب جا کر مداخلت کی، جس پر خاتون گاڑی کی دوسری جانب آ گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی دوران ملزم سعد نے عاصم طارق سے تلخ کلامی کی اور چند لمحوں بعد ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ جان سے چلے گئے۔ ملزم موقعے سے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ملزم دفتر میں ان کا سابق کولیگ تھا، جس نے انہیں کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی۔
تاہم جب اس نے راستہ تبدیل کر کے کسی اور مقام پر لے جانا چاہا تو خاتون نے مزاحمت کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے میں ’گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘
اسلام آباد، شاہین چوک کے قریب فائرنگ، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا خاتون کو بچانے کے دوران ائرفورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر اظہار افسوس
وزیرداخلہ کا گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) July 5, 2026
وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری تعزیتی بیان میں محسن نقوی نے عاصم طارق کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
