اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا چاہے امریکہ مطالبہ ہی کیوں نہ کرے: اسرائیلی وزیر خارجہ

اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے چاہے امریکہ مطالبہ ہی کیوں نہ کرے: اسرائیلی وزیر خارجہ

روئٹرز نے بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا، چاہے امریکہ اس کا مطالبہ ہی کیوں نہ کرے۔

قبل ازیں باکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بدھ کو باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ہمارے لیے لبنان میں سیزفائر ایران میں سیزفائر جتنا ہی  اہم رہا ہے اور ہے، اور لبنان میں جنگ ختم ہونا بھی ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا ہی اہم رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمت بھی دباؤ اور جبر کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت اور طاقت کا ثمر تھی۔ اس مفاہمت نے ثابت کیا کہ مذاکرات صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب دوسرا فریق ایک مہذب قوم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش ترک کر دے اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکہ کی شکست کے اعلان میں تبدیل ہو گئی۔

اقوام متحدہ کی جوہری تنصیبات تک رسائی حتمی معاہدے اور پابندیوں کے بعد ہی ممکن: ایران

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ کو ایکس پر کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں رافائل گروسی (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل) کی درخواست کے باوجود ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات یا جوہری مواد تک رسائی دینے کا بھی کوئی پروگرام موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات صرف ’حتمی معاہدے کے فریم ورک میں اور مخالف فریق کی جانب سے تمام پابندیوں کے خاتمے سمیت عملی اقدامات کے بعد زیرِ غور آئیں گے اور ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ’آپ میڈیا میں شور شرابا کر کے اپنی پالیسی کو حقیقت کا روپ نہیں دے سکتے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ ’پہلے ماحول بناؤ اور پھر اسے منوا لو‘ کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی۔

ایران میں جلد جوہری تنصیبات کا معائنہ کیا جائے گا: آئی اے ای اے

کاظم غریب آبادی کے بیان سے قبل بدھ کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد ایران میں جوہری تنصیبات کا معائنہ جلد کیا جائے گا، تاہم اس کے طریقۂ کار، تاریخوں اور مقامات کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔

جاپان کے صوبے فوکوشیما میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رافائل گروسی نے کہا کہ معائنے ضرور ہوں گے اور اس حوالے سے تاریخوں، طریقہ کار اور دیگر انتظامات پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایرانی حکومت کے تعاون اور اشتراک سے انجام دیا جائے گا اور انہیں یقین ہے کہ دونوں فریق اس سلسلے میں اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروسی نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا چاہتا ہے تو معائنے ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول ’یہ عمل ہو کر رہے گا۔ اگر وہ معاہدے کی پاسداری کرنا چاہتے ہیں تو معائنوں کا انعقاد ضروری ہے، بصورت دیگر یہ الگ معاملہ ہو گا۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی آٹھویں شق میں واضح طور پر درج ہے کہ جوہری مواد اور تنصیبات سے متعلق تمام سرگرمیاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام دی جائیں گی۔

گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس میں جنگ کے خاتمے کے لیے اصولی اتفاق رائے شامل ہے۔ اس عبوری معاہدے کے تحت آئندہ 60 دنوں میں مذاکرات کیے جائیں گے جن میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔

آئی اے ای اے کو گذشتہ سال جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کے حساس جوہری مراکز تک رسائی حاصل نہیں رہی۔ اگرچہ ادارے نے بعض دیگر مقامات کا معائنہ کیا تھا، تاہم 28 فروری کو حملوں کے ایک نئے سلسلے کے آغاز کے بعد معائنے معطل کر دیے گئے تھے۔

آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ حملوں کے بعد اس کے افزودہ یورینیم کا کتنا ذخیرہ محفوظ رہا اور اسے کہاں منتقل کیا گیا۔ ادارے کے اندازے کے مطابق اسرائیلی حملوں سے قبل ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *