ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن کراچی کی جانب سے استعمال شدہ موبائل فونز کی نئی ویلیویشن جاری کر دی گئی ہے، جس سے اب موبائل فون کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق موبائل قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
کسٹمز حکام کی جانب سے 21 اپریل کو جاری مراسلے کے مطابق 62 مختلف ماڈلز کی درآمدی قیمت میں 20 فیصد سے لے کر 190 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے سے اب موبائل فون پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے عائد ٹیکس (جس کو پی ٹی اے ٹیکس کہا جاتا ہے) میں بھی اضافہ ہو گا کیونکہ موبائل فون پر کسٹم ڈیوٹی موبائل فون کی ویلیو کے حساب سے لگائی جاتی ہے۔ کسٹم حکام کے مراسلے کے مطابق ایپل کے فلیگ شپ ماڈل آئی فون 15 پرو میکس کی قیمت ایک لاکھ 28 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 41 ہزار تک کر دی گئی ہے، جبکہ آئی فون 15 پرو کی قیمت میں 82 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جو اب ایک لاکھ نو ہزار کے بجائے ایک لاکھ 32 ہزار مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح سام سنگ کے صارفین بھی اس اضافے سے محفوظ نہیں رہے، اور گیلیکسی ایس 23 الٹرا کی ویلیو 71 ہزار سے بڑھا کر 85 ہزار کر دی گئی ہے۔ اینڈروئیڈ کے دیگر برانڈز میں ون پلس 18 کی قیمت 184 ڈالر سے بڑھا کر 211 ڈالر کر دی گئی ہے۔
اس نئی لسٹ میں سب سے بڑا اضافہ گوگل پکسل کے فونز میں دیکھا گیا ہے جس میں گوگل پکسل چھ کی قیمت جو جنوری میں تقریباً نو ہزار تھی، اپریل کی نئی لسٹ میں 193 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 26 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے، جو کہ تمام ماڈلز میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح گوگل پکسل نائن پرو ایکس ایل کی قیمت میں بھی 24 ہزار روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے جو اب 260 ڈالر کے بجائے 348 ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے۔
مراسلے میں کسٹمز حکام کا موقف ہے کہ یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر مقرر کی گئی ہیں اور یہ تمام استعمال شدہ فونز پر لاگو ہوں گی، خواہ ان کی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے قانونی طریقے سے فون درآمد کرنے والوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی اور مارکیٹ میں پرانے فونز کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔
پشاور کی سب سے بڑے موبائل فون مارکیٹ میں موبائل درآمد کرنے کے کاروبار سے وابستہ تیمور کا کہنا ہے کہ ظاہری بات ہے کہ جب ویلیو میں اضافہ ہو گا تو ٹیکس بڑھے گا، جس سے صارفین کو موبائل مہنگی قیمت پر ملے گا۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب بھی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو صارفین پرانے ماڈلز نہیں بدلتے اور اس کا اثر مارکیٹ پر آ جاتا ہے کیونکہ گاہکوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ تیمور نے بتایا، ’قیمتیں بڑھنے سے نان پی ٹی اے موبائل فون کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ساتھ میں غیر قانونی آئی ایم ای آئی تبدیل شدہ فون بھی مارکیٹ میں بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔‘
اسی طرح بلور پلازہ میں موبائل دکان کے مالک حمزہ کے مطابق رواں سال جنوری میں درآمدی ویلیو میں کمی کی گئی تھی جس سے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تھا لیکن اب دوبارہ اضافے سے دو، تین دنوں میں اثر آنا شروع ہو گیا ہے۔ حمزہ نے بتایا، ’آئی فون کے 15 سے 13 تک کے ماڈلز میں 10 ہزار روپے سے 30 ہزار روپے تک اضافہ ہو گا جس سے گاہک میں ضرور کمی آئے گی۔‘
کسٹم ویلیو کیا ہے؟
پاکستان میں کوئی بھی چیز جب درآمد ہوتی ہے تو اس چیز کی کسٹم حکام کی جانب سے ایک قیمت مقرر کی جاتی ہے اور اسی قیمت کی بنیاد پر درآمدی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور اسی طرح موبائل فون کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایف بی آر کی جانب سے وہ موبائل فون جس کی درآمدی قیمت 350 ڈالر سے 500 ڈالر تک ہے، اس کے اوپر 23 ہزار 420 روپے فکسڈ ٹیکس اور اس کے ساتھ متعلقہ موبائل فون کی درآمدی قیمت پر مزید 17 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔
نئی ویلیویشن کے مطابق آئی فون 15 پرو میکس کی درآمدی قیمت 505 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 41 ہزار مقرر کی گئی ہے)، تو اب اس پر 23 ہزار 420 فکسڈ ٹیکس اور اس کی قیمت کا 17 فیصد ٹیکس جمع کر کے تقریباً 23 ہزار مزید جمع کر کے مجموعی ٹیکس 46 ہزار سے زیادہ بن جاتا ہے۔
اسی حساب سے تمام استعمال شدہ درآمدی موبائل فون پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور حالیہ ویلیویشن میں اضافے سے تمام استعمال شدہ موبائل فون کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

