چین کے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’ڈیپ سیک‘ نے اپنا طویل عرصے سے متوقع نیا اے آئی ماڈل جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر بہترین صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔
ڈیپ سیک V4، جس کا پری ویو ورژن اب استعمال کے لیے دستیاب ہے، کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے چین میں تیار ہونے والے مقامی چپس کے لیے بہتر انداز میں آپٹمائز کیا گیا ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا نیا ماڈل ’دس لاکھ الفاظ پر مشتمل انتہائی طویل کانٹیکسٹ کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایجنٹ صلاحیتوں، عالمی معلومات اور ریزیننگ کارکردگی کے شعبوں میں مقامی اور اوپن سورس میدان میں قیادت حاصل کر چکا ہے۔‘
یہ ماڈل دو ورژنز میں دستیاب ہے پہلا ڈیک سیک V4-پرو اور ڈیپ سیک V4-فلیش۔
کمپنی کے مطابق فلیش ورژن زیادہ مؤثر اور کم لاگت والا انتخاب ہے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ ’عالمی معلومات کے بینچ مارکس میں ڈیپ سیک V4 پرو دیگر اوپن سورس ماڈلز پر واضح برتری رکھتا ہے اور صرف گوگل کے جنریٹو اے آئی کلوزڈ سورس ماڈل جمینائی پرو3.1 سے معمولی پیچھے ہے۔
ڈیپ سیک V4-پرو میں ’میکسیمم ریزیننگ موڈ‘ شامل ہے، جس کے بارے میں چینی سٹارٹ اپ کا کہنا ہے کہ یہ ’اوپن سورس ماڈلز کی علمی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے اور اسے آج دستیاب بہترین اوپن سورس ماڈل کے طور پر مضبوطی سے قائم ہے۔
ڈیپ سیک نے گذشتہ سال اپنے R1 ماڈل کی ریلیز کے بعد کھربوں ڈالر کی سٹاک مارکیٹ میں فروخت کی ہلچل پیدا کر دی تھی کیونکہ اس ماڈل نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی جیسے سسٹمز کی کارکردگی کا مقابلہ کیا، حالانکہ اسے تیار کرنے کی لاگت نسبتاً بہت کم تھی۔
R1 کی ریلیز نے مغربی ٹیکنالوجی صنعت میں ہلچل مچا دی تھی، جہاں این ویڈیا کو ایک دن میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اس کی مارکیٹ ویلیو میں 500 ارب ڈالر سے زائد کمی آئی، جبکہ اریکل، ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسے دیگر بڑے اداروں کے شیئرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ڈیپ سیک کا ماڈل اوپن سورس، مفت استعمال کے لیے دستیاب اور نہایت کم لاگت میں تیار کیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع بھی تھا جب کسی چینی کمپنی نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کا اس سطح پر مقابلہ کیا۔
ڈیپ سیک کی تازہ ریلیز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے چین پر سیمی کنڈکٹرز، خاص طور پر اعلیٰ معیار کے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کی برآمدات پر پابندیاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث چین کو اپنی مقامی چپ سازی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ V4 ماڈلز کی تربیت کے لیے کون سا چپ سسٹم استعمال کیا گیا، تاہم اس نے کہا کہ اس کے سافٹ ویئر کمپونینٹس Nvidia اور Huawei دونوں کے چپس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اب تک اے آئی کمپنی نے نئے ورژن کی صرف بنیادی تفصیلات جاری کی ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ 384,000 ٹوکنز تک آؤٹ پٹ پیدا کر سکتا ہے۔
ٹوکنز وہ بنیادی اکائی ہیں جن پر اے آئی ماڈلز کام کرتے ہیں، اور یہ الفاظ یا حروف پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر ایک ٹوکن تقریباً 4 حروف کے برابر ہوتا ہے اور جتنی تیزی سے ماڈل ٹوکنز کو پراسیس کرے، اتنی ہی تیزی سے وہ سیکھتا اور جواب دے سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چینی اے آئی کمپنی کے مطابق نئے ورژن کو ایک نمایاں کمپیوٹیشنل بہتری حاصل ہے کیونکہ یہ ایک ملین ٹوکنز تک کے کانٹیکسٹ کو سمجھنے اور اسے پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پچھلا ورژن V3 صرف 128,000 ٹوکنز تک کے کانٹیکسٹ کو سمجھ سکتا تھا۔
یہ نئی اپ گریڈ ملٹی ڈاکومنٹ استدلال کو ممکن بناتی ہے، جس کے تحت یہ اے آئی ماڈل اب مکمل کتابوں اور بڑے کوڈ ڈیٹابیسز کے کانٹیکسٹ کو بھی سمجھ سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت ایک ملین ٹوکنز کے کانٹیکسٹ کو مؤثر طریقے سے سپورٹ کرنے کے قابل بناتی ہے جو اگلی نسل کے بڑے لینگویج ماڈلز کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
طویل متن کو سمجھنے کے حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک V4-پرو گوگل کے جیمنائی پرو3.1 سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے تاہم یہ اب بھی Anthropic کے Claude Opus 4.6 ماڈل سے پیچھے ہے۔
ڈیپ سیک نے کہا ہے کہ وہ مختلف حالات اور ٹاسک میں ماڈل کی ذہانت، مضبوطی اور عملی استعمال کو مزید بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھے گا۔
