اسحاق ڈار اور نیٹلی بیکر کی ملاقات، امریکہ ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اسلام آباد میں امریکہ ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مستقل جنگ بندی اور وسیع تر معاہدے کی کوششوں پر بات چیت کی۔

پاکستان ان مذاکرات میں خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں فریقین کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی شامل ہے۔

اسحاق ڈار اور امریکہ کی ناظم الامور کے درمیان یہ ملاقات اس پیش رفت کے ایک روز بعد ہوئی جب پاکستان نے کہا کہ اسے حالیہ امریکی تجویز پر ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے جس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان کا سفارتی کردار زیادہ نمایاں ہوا ہے اور پاکستان نے بارہا امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ ’جلد یا بدیر‘ طے پا سکتا ہے تاہم اس کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار اور نیٹلی بیکر کی پیر کی ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا: ’وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام میں معاون ثابت ہوں گی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس بات چیت میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تازہ سفارتی پیش رفت خلیج میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا کہ اسلام آباد کو سفارتی ذرائع کے ذریعے ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے، اور پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان مکالمے کی حوصلہ افزائی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پاکستانی ثالث کے ذریعے ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجاویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے ایران کے نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے حالیہ کشیدگی اور خلیجی بحری راستوں میں سکیورٹی واقعات کے باعث متاثر ہونے والی تجارتی بحری آمد و رفت اور پھنسے ہوئے عملے کے بعد، سنگاپور کے ذریعے پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی میں امریکہ کی جاری مدد کو سراہا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *