پاکستان میں اویغور مسلمانوں کی روایتی عید تقریبات

پاکستان میں مقیم اویغور مسلمان عیدالفطر کی خوشیاں منا رہے ہیں تاہم اپنی ثقافت اور مادری زبان کے تحفظ کے حوالے سے انہیں بڑھتی ہوئی تشویش کا بھی سامنا ہے۔

راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں ایک گھر کی چھت پر 100 سے زائد اویغور افراد جمع ہوئے، جہاں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے عید کی خوشیاں منائیں۔

اس موقع پر کئی افراد روایتی اویغور ٹوپی (دوپّا) پہنے ہوئے تھے اور ایک بینر پر ’عید مبارک، اویغور کڈز پاکستان‘ درج تھا۔

پاکستان میں اویغور برادری کے رہنما محمد عمر خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر سال بچوں کو اکٹھا کر کے نہ صرف عید مناتے ہیں بلکہ اپنی ثقافت اور زبان کو زندہ رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

اویغور زیادہ تر چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی ایک بڑی تعداد مختلف ممالک میں مقیم ہے۔

پاکستان میں اویغور خاندانوں کی تعداد تقریباً 400 سے 500 کے درمیان بتائی جاتی ہے، جن میں سے زیادہ تر گلگت بلتستان اور راولپنڈی میں آباد ہیں۔

حالیہ برسوں میں اویغور مسلمانوں کے حوالے سے عالمی توجہ انسانی حقوق سے متعلق الزامات پر مرکوز رہی ہے، جنہیں چین مسترد کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی 2022 کی ایک رپورٹ میں اویغوروں اور دیگر مسلم گروہوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کے قابل اعتبار شواہد کا ذکر کیا گیا تھا۔

محمد عمر خان نے بتایا کہ سنکیانگ میں موجود ان کے درجنوں رشتہ داروں سے گزشتہ کئی برسوں سے رابطہ منقطع ہے۔

ان کے بقول دنیا بھر میں اویغور اپنے عزیزوں سے رابطہ نہیں کر پا رہے اور ان کی حالت کے بارے میں لاعلم ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اویغور رہنماؤں کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والی نئی نسل اپنی زبان سمجھ تو لیتی ہے، مگر اسے بول نہیں پاتی، جس پر انہیں تشویش ہے۔

اسی لیے وہ اویغور زبان کی تعلیم کے لیے ایک باقاعدہ سکول کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں سکول قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اسے بند کر دیا گیا۔

ساتھ ہی معاشی مسائل کے باعث بھی بہت سے بچے معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے۔

اویغور رہنماؤں کے مطابق ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے تو نہ صرف زبان اور ثقافت محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ بچے بہتر تعلیم حاصل کر کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مشکلات کے باوجود اویغور برادری کے نوجوان اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں اور مستقبل میں اپنی کمیونٹی کے لیے کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *