کیا سبھاش چندر بوس کی باقیات آٹھ دہائیوں بعد جاپان سے انڈیا واپس آئیں گی؟

تحریک آزادی کے ممتاز رہنما نیتا جی سبھاش چندر بوس کے لاپتہ ہونے کی آٹھ دہائیوں بعد ان کی 84 سالہ صاحبزادی انیتا بوس پفاف نے جاپان سے ان کی باقیات کی وطن واپسی کے لیے انڈین سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی حمایت کر دی ہے۔

تاہم انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ انیتا خود عدالت میں پیش ہو کر نئے سرے سے اپنے والد کی باقیات کی واپسی کی درخواست دائر کریں۔

نیتا جی سبھاش چندر بوس کون تھے؟

سبھاش چندر بوس برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے ایک انتہائی اہم، نڈر اور مقبول رہنما تھے، جنہیں عوام احترام سے ’نیتا جی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

جہاں تحریک آزادی کے دیگر رہنماؤں نے سیاسی اور پرامن جدوجہد کا راستہ اپنایا، وہیں نیتا جی کا موقف تھا کہ برطانوی راج سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ناگزیر ہے۔

دوسری عالمگیر جنگ کے دوران چندر بوس نے اڈولف ہٹلر سے تعلقات استوار کیے اور جرمنی جا کر ان سے ملاقات بھی کی۔

البتہ ہٹلر نے اس ملاقات میں ہندوستان کی آزادی پر کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی کیوں کہ وہ اس وقت پوری طرح سے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جنگ میں گھرا ہوا تھا۔

تاہم جرمنی میں بوس نے ’آزاد ہند ریڈیو‘ سٹیشن قائم کیا جس کو انہوں نے جنگ کے دوران برطانوی بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا۔

اسی سٹیشن سے بوس نے ذاتی طور پر انگریزی، ہندی، بنگالی اور کئی دیگر علاقائی زبانوں میں ریڈیو پر ولولہ انگیز تقاریر کیں۔

ان میں انہوں نے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا کہ وہ برطانوی راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جنگی کوششوں کو ناکام بنائیں۔

یہ نشریات ملک میں لاکھوں ہندوستانی شوق سے سنتے تھے۔

جب بوس پر واضح ہو گیا کہ جرمنی کی فتح کا امکان نہیں اور جاپان انڈیا تک پہنچ سکتا ہے تو بوس یورپ سے نکل کر مشرقی ایشیا چلے گئے اور جاپان سے رابطے بڑھا دیے۔

جاپانی تعاون سے انہوں نے انڈین نیشنل آرمی قائم کی تاکہ انگریزوں کو طاقت کے زور پر برصغیر سے نکالا جا سکے۔ ان کا مشہور نعرہ ’تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا‘ آج بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔

اسی دوران 1945 میں تائیوان میں ان کا طیارہ گر گیا جس سے وہ چلے بسے۔ تاہم ان کی موت ہمیشہ اسرار کے پردے میں رہی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی راکھ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے رینکو جی مندر میں آج بھی محفوظ ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کا احوال

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیتا جی کے بھتیجے آشیش رے کی جانب سے دائر کی گئی موجودہ درخواست کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئیملیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بینچ نے کی۔

عدالتی کارروائی کے دوران انیتا بوس پفاف آسٹریا سے ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھیں۔

بینچ نے درخواست گزار کے وکیل اے ایم سنگھوی پر واضح کیا کہ اگرچہ عدالت نیتا جی کے اہل خانہ کے جذبات کا مکمل احترام کرتی ہے، لیکن قانونی کارروائی کے لیے انیتا بوس کو خود براہ راست درخواست گزار کے طور پر آگے آنا چاہیے۔

جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے ’وارث کو ہمارے سامنے آنے دیں۔ یہ بادلوں کے پیچھے چھپ کر لڑی جانے والی جنگ نہیں ہو سکتی۔ اگر وارث چاہتی ہیں کہ راکھ ملک واپس لائی جائے، تو ان کو ہمارے سامنے آنا چاہیے۔‘

درخواست گزار کی استدعا

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیتا جی کی باقیات 80 برس سے زائد عرصے سے جاپان کے مندر میں موجود ہیں، جو ان کی بیٹی کے لیے دکھ کا باعث ہے۔

استدعا کی گئی تھی کہ حکومت انڈیا کو مقررہ وقت کے اندر راکھ کی باعزت واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے تاکہ انیتا بوس اپنے والد کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔

بینچ کے عدم اطمینان کو دیکھتے ہوئے سینیئر وکیل اے ایم سنگھوی نے درخواست واپس لے لی اور عدالت سے ایک نئی درخواست کے ساتھ دوبارہ رجوع کرنے کی اجازت حاصل کر لی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *