طورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کی بلدیاتی حکومت کے نمائندے شاہ خالد نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر گذشتہ تقریباً 10 روز سے ایک لاوارث لاش پڑی ہے، جسے جمعرات کو دونوں ملوں کے ایک جرگے کی کوششوں کے باوجود اٹھایا نہیں جا سکا۔

تاحال سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا کہ یہ لاش پاکستانی یا افغان شہری کی ہے، تاہم پاکستان کے ضلع خیبر کے جرگے کے ارکان کے مطابق افغان وفد کا کہنا ہے کہ یہ لاش ایک افغان محنت کش کی ہے۔

ضلع خیبر کے سرکاری حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ اس لاش کو اٹھانے کے سلسلے میں ضلع خیبر کے مقامی مشران اور افغانستان کے کچھ مشران کے جرگے نے آج طورخم پر ملاقات کی۔

اس موقعے پر پاکستانی جرگے میں شامل مقامی مشران نے سفید رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

شاہ خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج اس سلسلے میں افغان جرگے سے ملاقات کی اور جرگے کی درخواست پر آج شام ساڑھے پانچ بجے تک عارضی فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

شاہ خالد نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد لاش کی شناخت اور اسے دفنانا تھا، تاہم وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا لیکن اب بھی ’امید‘ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’افغان وفد نے لاش کی شناخت کی اور بتایا کہ یہ دراصل سرحد پر کام کرنے والے افغان پورٹر (ویل چیئر چلانے والا مزدور) ہے، جسے ذہنی مسائل بھی درپیش تھے، جو جھڑپوں کے دوران گیٹ کے پاس آیا اور مارا گیا۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

شاہ خالد نے بتایا کہ ’جب لاش کی شناخت ہو گئی کہ یہ افغان شہری کی ہے، تو افغان وفد نے بتایا کہ لاش اٹھانے سے پہلے وہ افغان حکام سے بات کریں گے، جس کے بعد وہ چلے گئے۔ پھر فائر بندی کا وقت بھی ختم ہو گیا اور وفد واپس نہیں آیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں سرکاری حکام نے یہ اختیار دیا تھا کہ اگر لاش کی شناخت نہ ہو سکی تو اسے اٹھا کر پاکستان میں عزت سے دفن کیا جائے لیکن چونکہ لاش کی شناخت ہوگئی تو افغان وفد سے لاش اٹھانے کی درخواست کی گئی۔

شاہ خالد کے مطابق: ’لاش کی حالت بھی خراب تھی اور پہچان سے باہر تھی لیکن کچھ نشانیوں سے شناخت ہوئی، جیسے سرخ ٹوپی، جو وہاں پر موجود تھی جبکہ ان کے پہنے ہوئے چپل سے بھی شناخت میں مدد ملی۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ اب بھی ہماری کوشش ہے کہ افغان وفد سے رابطہ قائم رکھ سکیں اور لاش کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان حکام اسے اٹھائیں۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطے کی کوشش کی، لیکن اس خبر کی اشاعت تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *