سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملے روکنے کی قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خلیجی ریاستوں پر اپنے حملے روک دے۔

تاہم اس قرارداد میں ایران پر امریکی یا اسرائیلی حملوں کا کوئی ذکر نہیں تھا، جس پر تہران کے سفیر نے بین الاقوامی ادارے کے ’کھلے عام غلط استعمال‘ کی مذمت کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ قرارداد 13 ووٹوں سے منظور ہوئی جب کہ دو ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں ’اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر کیے جانے والے تمام حملے فوری طور پر بند کرنے‘ کا مطالبہ کیا گیا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی جہاز رانی بند کرنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا کسی بھی اور طریقے سے مداخلت کرنے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی اقدام یا دھمکی کی مذمت کی جاتی ہے۔‘

ایران نے بار بار خلیجی ریاستوں کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا ہے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے تھے اور ایرانی مقامات پر حملے مسلسل جاری ہیں۔

 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین کے اقوام متحدہ میں سفیر جمال فارس الرویعی، جن کے ملک نے 135 ممالک کی حمایت یافتہ اس قرارداد کو پیش کیا، نے کہا کہ اس کی منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی معیشت میں خلیج کا کردار کس قدر اہم ہے۔

الرویعی نے سلامتی کونسل کو بتایا: ’اسی لیے اس خطے میں سلامتی یقینی بنانا صرف علاقائی معاملہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، جو عالمی معیشت کے استحکام اور توانائی کے تحفظ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔‘

ویٹو کا اختیار رکھنے والے چین اور روس، دونوں نے سلامتی کونسل کی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، کیوں کہ وہ اس بات پر ناراض تھے کہ قرارداد میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری ’امریکہ اور اسرائیل کے سیاسی ایجنڈوں کے حصول کے لیے سلامتی کونسل کے اختیار کے کھلے عام غلط استعمال‘ کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ قرارداد میرے ملک کے خلاف کھلا ناانصافی ہے، جو ایک واضح جارحیت کا اصل نشانہ ہے۔‘

امریکہ نے، جس نے اس متن کی حمایت کی، کہا کہ اس کی منظوری ایران کے حملوں کی وسیع مذمت کی عکاسی کرتی ہے۔

امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا، ’ایران کی افراتفری پھیلانے، اپنے پڑوسیوں کو یرغمال بنانے اور خطے کے عزم کو ہلانے کی حکمت عملی واضح طور پر الٹی پڑی ہے، جیسا کہ آج کی اس ووٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *