اپنے بچوں سے ملاقات بہت خطرناک: یوکرینی صدر کا اعتراف

ایک ایسے شخص کو، جو اپنے ہمسائے ملک کے قاتلوں کا اولین ہدف ہے، جو اپنے قتل کی متعدد سازشوں سے بچ نکلا ہے اور جو مسلسل بمباری کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، اپنے خاندان سے ملنے کا موقع کتنی بار ملتا ہے؟

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی کے لیے اس کا جواب ہے ’زیادہ نہیں۔‘

لیکن یہی حال ان کے ملک کے لاکھوں فوجیوں اور ان کروڑوں بچوں کا بھی ہے جو، ان کے اپنے بچوں کی طرح، یا تو سکول جاتے ہیں یا گھر پر تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ ولادی میر پوتن انہیں بھی مارنا چاہتے ہیں۔

زیلنسکی نے دی انڈپینڈنٹ کے ’ورلڈ آف ٹربل‘ پوڈکاسٹ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا ’ہمارے بچے سکول میں پڑھتے ہیں اور انہیں بہت تیزی سے پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔

’انہیں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہاں پڑھتے ہیں، دارالحکومت میں یا محاذ کے قریب کیونکہ میزائل یہ نہیں چنتا کہ اسے کہاں جانا ہے۔ وہ صرف تباہی لاتا ہے۔۔۔اسی لیے ہمارے تمام بچے خطرے میں ہیں۔‘

اسی وجہ سے زیلنسکی اپنی اہلیہ اولینا زیلنسکا یا اپنے بیٹے کیرِیلو کے ساتھ بہت کم وقت گزار پاتے ہیں۔

ان کا بیٹا ابھی 13 برس کا ہوا ہے لیکن اس نے اپنی پوری زندگی ایسے ملک میں گزاری ہے جس پر روس نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ ابھی شیر خوار تھا۔ اس جوڑے کی ایک 21 سالہ بیٹی اولیکساندرا بھی ہے۔

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کے باعث انہیں خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت کم موقع ملتا ہے اور وہ شاذ و نادر ہی ان سے ملنے جاتے ہیں کیونکہ ’یہ بھی خطرناک ہے۔‘

ان کا خاندان ایک خفیہ مقام پر رہتا ہے اور وہ خود بھی۔ لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کی نقل و حرکت پر روس کی خفیہ ایجنسیاں سخت نظر رکھتی ہیں، جو انہیں قتل کرنے کی کم از کم 11 سازشوں کے پیچھے رہی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے خاندان کے ساتھ انہیں روسی سپیشل فورسز اور ایف ایس بی کے دستوں نے بھی نشانہ بنایا تھا، جنہیں کریملن نے یوکرین کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

تاہم انہوں نے امریکہ کی جلاوطنی اور محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔

اب انہیں اس بات میں بھی احتیاط برتنا پڑتی ہے کہ وہ کس جگہ کا دورہ کریں۔ حتیٰ کہ فیکٹریاں یا دیگر مقامات، جہاں صدارتی دورے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر انہیں یہ موقع نہیں ملتا۔

انہیں معلوم ہے کہ ایسا کرنے سے وہ روسی فضائی حملوں یا مقامی پراکسی حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں، جن میں پیسے یا بلیک میلنگ کے ذریعے بھرتی کیے گئے یوکرینی شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ورلڈ آف ٹربل کو بتایا ’میرے خاندان کے لیے بھی یہی صورت حال ہے، اسی لیے میں کچھ جگہوں پر زیادہ جانے کی کوشش نہیں کرتا۔‘

زیلنسکی 2019 میں ایسے انتخاب میں صدر منتخب ہوئے جسے شاید تاریخ میں حقیقت کے افسانے کی پیروی کرنے کی سب سے واضح مثال کہا جا سکتا ہے۔

2015 میں انہوں نے ایک ٹی وی سیریز ’سرونٹ آف دی پیپل‘ تخلیق کی اور اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ایک تاریخ کا استاد ملک میں بدعنوانی کے خلاف غصے سے بھرپور آن لائن تقریر کرنے کے بعد تقریباً اتفاقاً یوکرین کا صدر بن جاتا ہے۔

اب ’سرونٹ آف دی پیپل‘ یوکرین کی پارلیمنٹ میں غالب جماعت ہے اور ایک سابق مزاحیہ اداکار ایسے ملک کے صدر ہیں، جس پر 2022 میں پوتن نے اس کے وسیع وسائل پر دوبارہ قبضہ کرنے کی مکمل کوشش کے تحت حملہ کیا تھا۔

گذشتہ چار برسوں نے صدر کو خاصا تھکا دیا ہے۔ آن لائن انٹرویو کے لیے وہ قدرے تھکے اور پژمردہ نظر آئے، لیکن جلد ہی گفتگو میں گرم جوش ہو گئے اور اپنے آسان انداز میں خوش مزاجی اور مزاحمت کا اظہار کیا، جو ان کا بین الاقوامی انداز بھی ہے اور وسیع تر یوکرینی رویوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

زیلنسکی نے اس تصور کو مسترد کیا کہ وہ خود کو ریاست کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں، جیسا کہ پوتن کے طرز سیاست میں ہوتا ہے اور عام یوکرینیوں نے بھی گذشتہ سال اس بات کو واضح کر دیا جب انہوں نے ان کی حکومت کے بدعنوانی کے خلاف اداروں کی خودمختاری ختم کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔

ان احتجاجوں کے باعث حکومت کو پالیسی واپس لینا پڑی اور ان کے چند قریبی ساتھیوں پر بڑے مالیاتی سکینڈلز میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوئے، بعض پر فرد جرم عائد ہوئی یا وہ جلاوطنی اختیار کر گئے۔

اب جب کہ ملک مارشل لا کے تحت چل رہا ہے، وہ قانونی طور پر اس وقت تک نیا انتخاب نہیں کروا سکتے جب تک کوئی تسلی بخش امن حاصل نہ ہو جائے اور پارلیمنٹ ہنگامی حالت ختم نہ کر دے۔

کیا وہ دوبارہ انتخاب لڑیں گے؟

انہوں نے ورلڈ آف ٹربل کو بتایا ’مجھے یقین نہیں کہ میں ایسا کروں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ایسا صدر نہیں بن سکتے جسے سب لوگ پسند کریں۔

’میں یہ سمجھتا ہوں اور یہ ٹھیک ہے۔۔افسوس کی بات ہے، لیکن ہمیں اسے تسلیم کرنا ہوگا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا ’لیکن میں ایسا صدر نہیں بننا چاہتا جو انتخاب لڑ رہا ہو جبکہ اسے معلوم ہو کہ وہ آخری نمبر پر آئے گا اور پھر اپنی مہم کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں انہوں نے انتخاب لڑنے سے پہلے اپنے خاندان سے مشورہ نہیں کیا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ایسا کرنا ملک کے مفاد میں ہے، لیکن اب ان کی طویل مدتی ترجیحات بدل گئی ہیں۔

’اس بار یقیناً میرے لیے سب سے زیادہ اثر رکھنے والے فیصلوں میں سے ایک میرے خاندان پر منحصر ہوگا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ دوبارہ انتخاب لڑنے کے بارے میں ان کے خاندان کی کیا رائے ہے تو صدر کے لیے پیغام بالکل واضح تھا ’وہ کہتے ہیں: نہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *