اپوزیشن کے ہنگامے کے دوران پارلیمان سے ریکارڈ نویں خطاب میں صدر زرداری نے کہا افغانستان کے ساتھ جنگ کے بارے میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر ہمیں دفاع کا حق دیتا ہے۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ’کسی بھی ملکی یا غیر ملکی طاقت کو ہمارے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘
یہ ان کا بطور صدر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے نواں خطاب تھا۔
پیر کو خطاب کے دوران انہوں نے کہا افغانستان کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں کہا کہ ’ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے۔ کوئی ریاست اپنی سرزمین پر مسلسل حملوں کو تسلیم نہیں کرتی۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان اور ہمارے دوست برادر ممالک کی جانب سے متعدد سفارتی رابطوں کے باوجود، افغان ڈی فیکٹو حکومت القاعدہ، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ دوحہ میں ان کی جانب سے کیے گئے وہ تمام وعدے بڑی آسانی سے بھلا دیے گئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر نے کہا کہ ’ہم نے افغان عوام کے ساتھ ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں اور عزیزوں جیسا سلوک کیا ہے۔ ہم نے کبھی بھی بات چیت سے منہ نہیں موڑا۔ افغان عوام کو نہ ختم ہونے والی جنگوں سے وقفے کی ضرورت ہے۔ ان سے امن سے جڑے خوشحال مستقبل کا انتخاب نہ چھینیں۔ میں ان پر زور دوں گا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے عزائم کے لیے خود کو میدانِ جنگ کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں۔‘
ایران امریکہ اسرائیل جنگ
ایران پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کے دوران ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے برادر ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت میں تمام پاکستانیوں کے ساتھ شریک ہوں۔‘
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خلیجی ملکوں پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی: ’ہم خلیجی خطے میں اپنے برادر ممالک پر کیے جانے والے بعد کے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت، قطر اور سعودی عرب۔ خطے میں جتنی جلدی استحکام واپس آئے گا، دنیا اتنی ہی جلدی زندگیوں کی تعمیرِ نو اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کے کام کی طرف لوٹ سکے گی۔ میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے، اور تمام برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔‘
صدر کی تقریر کے دوران حزبِ اختلاف کا احتجاج جاری رہا اور ایک موقعے پر چند ارکان سپیکر کے ڈائس کے آگے بھی جمع ہو گئے اور ’گو زرداری گو،‘ اور ’عمران خان کو رہا کرو،‘ کے نعرے لگاتے رہے۔
