ایران جنگ: تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہونے کا خدشہ

تیل کے تاجروں کے مطابق اتوار کو برینٹ کروڈ کی قیمت اوور دی کاؤنٹر ٹریڈ میں تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو ایران جنگ کے بعد 10 فیصد کا اضافہ ہے۔

 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی جنگ کے سبب قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

جنگ کے خدشات کے باعث رواں سال عالمی تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور جمعہ کو یہ 73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جو گذشتہ جولائی کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

عالمی کمپنی ’آئی سی آئی ایس‘ کے ڈائریکٹر برائے توانائی اور ریفائننگ اجے پرمار کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’جہاں فوجی حملے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے معاون ہیں، وہاں سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز کی بندش کا بھی ہو گا۔‘

ماہرین کے مطابق زیادہ تر ٹینکر مالکان، بڑی تیل کمپنیاں اور تجارتی ہاؤسز نے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل، ایندھن اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل معطل کر دی ہے۔ عالمی تیل کا 20  فیصد سے زائد اس تنگ آبنائے سے گزرتا ہے۔

اجے پرمار نے مزید کہا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ویک اینڈ کے بعد پیر کو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب کھلیں گی اور اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو یہ سطح بھی عبور کر سکتی ہیں۔‘

مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تک لے جا سکتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی مالیاتی ادارے ’آر بی سی‘ کے تجزیہ کار ہیلیما کرافت کا اندازہ ہے کہ قیمتیں قلیل مدت میں ہی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں گی۔

دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے اتوار کو فیصلہ کیا کہ اپریل سے یومیہ پیداوار 206,000 بیرل بڑھائی جائے گی، جو عالمی طلب کا صرف 0.2 فیصد ہے۔

ناروے کی کمپنی ’ریسٹاد انرجی‘ سے وابستہ جارج لیون کے مطابق اگرچہ کچھ متبادل انفراسٹرکچر کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے بند ہونے سے آٹھ  سے 10 ملین بیرل یومیہ خام تیل کی سپلائی میں کمی آئے گی، حتیٰ کہ کچھ ترسیل سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن اور ابو ظہبی کی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کی گئی۔

ایران بحران نے ایشیائی حکومتوں اور ریفائنرز کو بھی تیل کے ذخائر اور متبادل شپنگ راستوں اور سپلائی کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا۔

ڈیٹا اور تجزیاتی کمپنی ’کیپلر‘ کے تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا ممکنہ مشرق وسطیٰ کی سپلائی کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے روسی تیل کی جانب رجوع کر سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *