امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے ایرانی ڈرون ہی کاپی کر لیا

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کی صبح ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اس نے ایران میں جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران یک طرفہ اور کم قیمت ڈرون استعمال کیے ہیں، جو ایرانی شاہد ڈرون کی طرز پر تیار کیے گئے تھے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایسے ڈرون پہلی بار استعمال کیے ہیں۔

یہ ڈرون، جنہیں لوکس (یعنی لو کاسٹ ان مینڈ) کا نام دیا گیا ہے، چونکہ ایک طرف ہی کا سفر کرتے ہیں، اس لیے ان سستے پڑتے ہیں۔ پینٹاگان کے مطابق ایک لوکس ڈرون پر 35 ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے۔

امریکہ نے ابتدائی حملے میں ڈرونز کے علاوہ ٹوماہاک میزائل اور سٹیلتھ بمباروں سمیت کئی اقسام کے طیارے بھی استعمال کیے۔

اس معاملے میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کو ہدف بنانے کے لیے ایرانی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پابندیوں کے زمانے میں ایران نے مقامی عسکری ٹیکنالوجی تیار کرنے میں خاصی مہارت حاصل کر لی تھی۔

شاہد ڈرون کے کئی ماڈل اور جنریشنز ہیں جو دنیا کے مختلف ملکوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ روس انہیں یوکرین میں استعمال کر رہا ہے اور انہیں خود مقامی طور پر بھی تیار کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران میں استعمال ہونے والے لوکس ڈرون کی کم قیمت ہونے کے علاوہ ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ خودکار طریقے سے بھی اڑ سکتا ہے اور اسے متعدد ڈرونز کے جھرمٹ کی شکل میں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے مطابق، لوکس یہ ڈرون طویل فاصلوں تک درمیانی بلندی پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو میدانِ جنگ میں اس کی افادیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

اس سے قبل امریکہ زیادہ تر پریڈیٹر اور ریپر ڈرون استعمال کرتا تھا جو ہدف پر راکٹ داغ کر واپس اپنے بیس کیمپ پر لوٹ آتے تھے۔ امریکہ نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے بارہا یہ ڈرون استعمال کیے ہیں۔ البتہ یہ ڈرون خاصے مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں چلانے کے لیے بہت تربیت یافتہ عملہ درکار ہوتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *